دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 6 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 6

اور اس کے بعد سپیکر صاحب نے فوری طور پر وقفہ کا اعلان کر دیا۔اس مرحلہ پر اس اہم نکتہ پر کہ جماعت احمدیہ کی طرف سے اُٹھائے گئے نکات کا جواب کون دے گا؟ بحث کو ادھورا چھوڑ کر کارروائی میں وقفہ کیوں کیا گیا؟ اور یہ کیوں کہا گیا کہ یہ بات پرائیویٹ طور پر کریں؟ اس کے متعلق ہر پڑھنے والا اپنی رائے خود قائم کر سکتا ہے۔وقفہ کے بعد ایک بار پھر سپیکر صاحب نے کہا: یہ ہاؤس نے decide کیا ہوا ہے۔اب آنریبل ممبرز جو چاہیں کریں چاہے بحث میں حصہ لے لیں، چاہیں زبانی کہہ دیں ، چاہیں written بتا دیں۔اس oath حلف اُٹھا کر بھی سٹیٹمنٹ دے سکتے ہیں۔اگر کے علاوہ وہ اگر کوئی چاہیں تو on کوئی Facts ان کے سپیشل نالج میں ہوں۔یہ سب آنریبل ممبران کی صوابدید پر 66 ہے، جیسے وہ مناسب سمجھیں۔“ مولوی حضرات حلف اُٹھانے سے گریز کرتے ہیں اس کے بعد عبدالحمید جتوئی صاحب نے یہ نکتہ اٹھایا کہ جو ممبر حلفاً بیان دے گا تو اس پر کیا جرح ہو سکتی ہے؟ اور کیا پھر ایسا نمبر ووٹ دے سکے گا؟ اس پر سپیکر صاحب نے جواب دیا کہ جو حلفاً بیان دے گا اس پر جرح ہو سکتی ہے اور ایسے ممبر کو پھر اخلاقاً ووٹ نہیں دینا چاہیے۔اس پر میر دریا خان کھوسوصا حب نے کہا: اور پھر کہا: وو ”میری گذارش یہ ہے کہ ممبر حضرات سے گواہی نہیں لینی چاہیے مبر صاحبان سے اگر آپ گواہی لینا شروع کریں گے اور ممبر صاحبان پر جرح کرنا شروع کریں گے تو یہ کوئی اچھی tradition نہیں ہے۔“ اس پر سپیکر صاحب نے یہ کہہ کر انہیں تسلی دلائی کہ یہ آپ کی مرضی ہے لیکن معلوم ہوتا ہے کہ بہت سے ممبران کے لیے یہ خیال بھی پریشان کن تھا کہ انہیں حلف اُٹھانا پڑے گا یا ان کے بیان پر کسی