دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 7
7 قسم کی کوئی ڈسکشن ہوگی۔چنانچہ عباس حسین گردیزی صاحب نے کہا کہ وہ کھوسو صاحب سے اتفاق کرتے ہیں کہ کسی ممبر کو بطور گواہ پیش نہیں ہونا چاہیے۔سپیکر صاحب نے پھر تسلی دلائی کہ یہ بات ختم ہو چکی ہے۔اس مرحلہ کی کارروائی پڑھ کر یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ممبران کسی قیمت پر بھی یہ نہیں چاہتے تھے کہ ان سے حلف لیا جائے یا ان کے بیانات پر کسی قسم کے سوالات اٹھائے جائیں۔اس مرحلہ یہ ذکر بھی آیا کہ کل سات ریزولیشن پیش ہوئے ہیں۔ان میں وزیر قانون پیرزادہ صاحب کا پیش کردہ رزولیشن ، بائیس ممبران کاریزولیشن، تین ممبران کا ریزولیشن ، سردار شوکت حیات صاحب کا ریزولیشن، محمد جعفر صاحب اور نعمت اللہ شنواری صاحب کے ریزولیشن شامل تھے۔اپوزیشن کی پیش کردہ قرار داد اس تمہیدی گفتگو کے بعد مفتی محمود صاحب نے اپنی تقریر شروع کی۔یہ تقریر اصل میں مولوی صاحبان کا تیار کردہ ایک قسم کا محضر نامہ تھا جسے مفتی محمود صاحب نے ممبران اسمبلی کے روبرو پڑھا تھا اور اسے بعد میں’ قادیانی فتنہ اور ملت اسلامیہ کا موقف“ کے نام سے شائع بھی کیا گیا تھا۔اس تقریر کے شروع میں وہ قرارداد پڑھی گئی جسے اپوزیشن کے ممبران نے پیش کیا تھا۔اس قرار داد کا متن درج کیا جاتا ہے۔’ہر گاہ کہ یہ ایک مکمل مسلمہ حقیقت ہے کہ قادیان کے مرزا غلام احمد نے آخری نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نبی ہونے کا دعویٰ کیا، نیز ہر گاہ کہ نبی ہونے کا اس کا جھوٹا اعلان بہت سی قرآنی آیات کو جھٹلانے اور جہاد کو ختم کرنے کی اس کی کوششیں اسلام کے بڑے بڑے احکام کے خلاف غداری تھیں۔نیز ہرگاہ وہ سامراج کی پیداوار تھا اور اس کا واحد مقصد مسلمانوں کے اتحاد کو تباہ کرنا اوراسلام کو جھٹلا نا تھا۔نیز ہر گاہ کہ پوری امت مسلمہ کا اس پر اتفاق ہے کہ مرزا غلام احمد کے پیروکار چاہے وہ مرزا غلام احمد مذکور کی نبوت کا یقین رکھتے ہوں یا اسے اپنا مصلح یا اپنا مذہبی