دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 5 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 5

5 نہ کسی طریقہ سے وضاحت ہو جائے۔وہ یہ ہے جناب والا ! انہوں نے ایک فریق کی حیثیث سے بہت سی باتیں ایسی کی ہیں جن میں میں یہ سمجھتا ہوں کہ ہاؤس کے ان اراکین میں سے میں بھی ایک ہوں جن کا علم اس ضمن میں محدود ہے۔مثال کے طور پر انہوں نے ایسے فتوے پیش کیے جن میں ایک خیال کے علماء کی طرف سے دوسرے خیال کے علماء کے خلاف یا مسلمانوں کے خلاف بہت سارے نازیبا اور ناروا الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔اس لیے میں آپ کی وساطت سے جناب مولانا صاحب سے گزارش کروں گا کہ آپ حج بیشک رہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ آپ اگر ایسے دو یا تین علماء صاحبان جو بیٹھے ہوئے ہیں ان کو اگر یہ موقع فراہم کریں کہ کم از کم ان کے اعتراض اور Charges کا وہ جواب دیں۔یہ ایک اہم نقطہ تھا جو ایک ممبر کی طرف سے اُٹھایا گیا تھا لیکن کارروائی کے پڑھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ پیکر صاحب یہ نہیں چاہتے تھے کہ اس اہم مسئلہ پر قومی اسمبلی کی اس پیشل کمیٹی پر کوئی بحث ہو۔سپیکر صاحب اس تجویز کے جواب میں کہا پرائیویٹ طور پر یہ مشورہ دے دیں ان کو یہ بات بالکل نا قابل فہم تھی کیونکہ پیشل کمیٹی کی کارروائی ہو رہی تھی اور اب تک تو جو غیر متعلقہ سوالات اُٹھائے گئے تھے ان کو تو نہیں روکا گیا تھا لیکن اس اہم رائے کو پرائیویٹ کیوں رکھنا چاہتے تھے؟ اس پر سردار عنایت اللہ عباسی صاحب نے کہا د نہیں جی مشورے کی بات تو نہیں ہے۔میں تو چاہتا ہوں ، جناب مجھے تو ایسا فریق چاہئے جو اس ضمن میں تردید کرے یا پھر ہمیں خود اجازت دیں ہم پھر جو کچھ اس ضمن میں درست ہے وہ کہہ دیں۔“ مفتی محمود صاحب کچھ وضاحت پیش کرنا چاہی لیکن معلوم ہوتا ہے کہ سپیکر صاحب اس موضوع پر بحث کو ہر قیمت پر روکنا چاہتے تھے انہوں نے کہا: نہیں جی ! یہ ڈسکس کر لیں گے،