دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 50 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 50

50 پاسکتا ہے حتی کہ محمد ﷺ سے بھی بڑھ سکتا ہے“ (افضل قادیان جلد انمبر ۵ مورخہ ۷ ار جولائی ۱۹۲۲ صفحه عنوان خلیفہ المسیح کی ڈائری) یہیں سے یہ حقیقت بھی کھل جاتی ہے کہ مرزائی صاحبان کی طرف سے بعض اوقات مسلمانوں کی ہمدردیاں حاصل کرنے کے لیے جو دعویٰ کیا جاتا ہے کہ وہ آنحضرت ﷺ کو خاتم النبیین مانتے ہیں اس کی اصلیت کیا ہے؟ ی تھی وہ حتمی دلیل جو اس ضمن میں مفتی صاحب پیش کر رہے تھے اور یہ ثابت کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے کہ احمدی نعوذ باللہ آنحضرت ﷺ کی افضلیت کے قائل نہیں اور وہ اس بات کے قائل ہیں کہ کوئی بھی شخص آنحضرت ﷺ سے آگے بڑھ سکتا ہے۔اس لیے وہ ختم نبوت کے منکر اور غیر مسلم ہیں۔اب ہم یہی حوالہ مکمل صورت میں پیش کرتے ہیں تا کہ ہر ایک پر یہ واضح ہو جائے کہ مفتی محمد دصاحب تمام اخلاقی حدوں کو پار کر کے اخفائے حق کے مرتکب ہور ہے تھے۔مکمل حوالہ یہ ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح الثانی فرماتے ہیں: ” یہ بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ پا سکتا ہے حتی کہ محمد رسول اللہ علے سے بھی بڑھ سکتا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ آنحضرت علیہ اس میدان میں سب سے آگے بڑھ گئے اور خدا نے آئندہ کے متعلق بھی یہ گواہی دے دی ہے کہ آپ آئندہ آنے والی نسلوں سے بھی آگے بڑھے ہوئے ہیں۔“ (الفضل قادیان جلده انمبر ۵ مورخہ ۷ار جولائی ۱۹۲۲ صفحه عنوان خلیفہ مسیح کی ڈائری) مندرجہ بالا حوالے سے یہ بات واضح ہے حضرت مصلح موعودؓ فرما رہے ہیں کہ روحانی ترقی کا میدان تو ہر ایک کے لئے کھلا تھا لیکن آنحضرت ﷺ اپنے سے پہلے تمام اشخاص سے آگے بڑھ گئے اور مستقبل کے متعلق اللہ تعالیٰ نے جو عالم الغیب ہے گواہی دی ہے کہ آپ آئندہ پیدا ہونے والے تمام انسانوں سے آگے بڑھے ہوئے ہیں۔اس مکمل حوالے کو پڑھ کر مفتی محمود صاحب کے الزام کا جال مکڑی کے جالے کی طرح درہم برہم ہو جاتا ہے۔مفتی محمود صاحب نامکمل حوالہ پیش کر کے اصل متن سے بالکل بر عکس تاثر پیدا کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔یہی وجہ تھی کہ اس کا رروائی کو