دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 49 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 49

49 وہی ہے جو سر چشمہ ہر ایک فیض کا ہے اور وہ شخص جو بغیر اقرار افاضہ اس کے کسی فضیلت کا دعویٰ کرتا ہے وہ انسان نہیں ہے بلکہ ذریت شیطان ہے کیونکہ ہر ایک فضیلت کی کنجی اس کو دی گئی ہے اور ہر ایک معرفت کا خزانہ اُس کو عطا کیا گیا ہے جو اس کے ذریعہ سے نہیں پاتا وہ محروم از لی ہے۔ہم کیا چیز ہیں اور ہماری حقیقت کیا ہے۔ہم کا فر نعمت ہوں گے اگر اس بات کا اقرار نہ کریں کہ توحید حقیقی ہم نے اسی نبی کے ذریعہ سے پائی۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحہ ۱۱۹) یہ حوالے پڑھ کر کوئی ذی ہوش یہ گمان نہیں کر سکتا کہ نعوذ باللہ حضرت اقدس بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے آنحضرت علیہ سے فضیلت کا دعویٰ کیا ہے۔یہاں تو یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ کوئی شخص روحانی مدارج تو ایک طرف رہے تو حید بھی آنحضرت ﷺ کے فیض کے بغیر حاصل نہیں کر سکتا۔حضرت مصلح موعودؓ کا نامکمل حوالہ مفتی محمود صاحب اور ان کے ساتھیوں کے لئے سوال وجواب کے اجلاسات میں جو خلاف توقع صورت حال نمودار ہوئی تھی غالباً اس وجہ سے مفتی محمود صاحب ذہنی طور پر کافی دباؤ میں تھے لیکن اب وہ پھر اسی طرز پر اپنے دلائل دے رہے تھے جن کے نتیجہ میں ان پر دباؤ میں اضافہ ہور ہا تھا۔وہ ایک بالکل خلاف واقعہ الزام لگا بیٹھے تھے مگر اس کے حق میں صحیح دلائل لانا ان کے بس کا روگ نہیں تھا۔اب اپنے دعوے کے حق میں انہوں نے یہ دلیل پیش کی : پھر بات یہیں پر ختم نہیں ہوتی بلکہ مرزائی صاحبان کا عقیدہ اس سے بھی بڑھ کر یہ ہے کہ صرف مرزا صاحب ہی نہیں بلکہ ہر شخص اپنے روحانی مراتب میں ترقی کرتا ہوا ( معاذ اللہ ) آنحضرت علی سے بڑھ سکتا ہے چنانچہ مرزائیوں کے خلیفہ دوم مرزا بشیر الدین محمود کہتے ہیں: یہ بات بالکل صحیح بات ہے کہ ہر شخص ترقی کر سکتا ہے اور بڑے سے بڑا درجہ