دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 51
51 خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور پھر کئی دہائیوں تک اس کو بڑے اہتمام سے خفیہ رکھا گیا۔سوال و جواب کے اجلاسات میں مولوی صاحبان کو اس اشکال کا سامنا کرنا پڑ گیا تھا کہ وہ خود آنحضرت ﷺ کے بعد ایک نبی کی آمد کے منتظر ہیں جس کو قرآن کریم کے مطابق بنی اسرائیل کی اصلاح کے لیے مبعوث کیا گیا تھا۔اس طرح وہ خود اپنے تجویز کردہ معیار کے مطابق بھی ختم نبوت کے منکر ہیں۔ان کے پاس اس کا کوئی جواب نہیں تھا۔غالباً اس خفت کا مداوا کرنے کے لیے مفتی محمود صاحب یہ ثابت کرنے کے لیے ہاتھ پاؤں مار رہے تھے کہ نعوذ باللہ احمدی یہ عقیدہ رکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ سب انبیاء اور سب انسانوں سے افضل نہیں ہیں اور اس وجہ سے احمدی ختم نبوت کے منکر اور کافر ہیں جیسا کہ ہم ذکر کر چکے ہیں کہ وہ اس کو ثابت کرنے کے لیے ایک نامکمل حوالہ پیش کر کے خلاف واقعہ نتیجہ پیش کر چکے تھے۔خدا جانے وہ اس صورت حال میں بالکل بوکھلا چکے تھے یا ان میں کسی عبارت کو سمجھنے کا مادہ ویسے ہی کم تھایا کوئی اور وجہ تھی۔اس مرحلہ پر اس بحث کو سمیٹتے ہوئے انہوں نے خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا ایسا حوالہ پیش کر دیا جس سے ان کے لگائے ہوئے الزام ویسے ہیں غلط ثابت ہو جاتے تھے۔انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ حوالہ پیش کیا۔اللہ جل شانہ نے آنحضرت ﷺ کو صاحب خاتم بنایا یعنی آپ کو افاضہ کمال کے لئے مہر دی جو کسی اور نبی کو ہر گز نہیں دی گئی اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم النبین ٹھہرا یعنی آپ کی پیروی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجہ روحانی نبی تراش ہے اور یہ قوت قدسیہ کسی اور نبی کو نہیں ملی۔(روحانی خزائن جلد ۲۲ صفحه۱۰۰) ان الفاظ میں آنحضرت ﷺ کی بلند اور ارفع شان بیان ہو رہی ہے اور یہ مضمون بیان ہو رہا ہے کہ انبیاء کے درمیان بھی آپ کا ایسا بلند اور بالکل منفرد مقام ہے کہ باقی انبیاء تو مقام نبوت پر فائز تھے مگر آپ کی پیروی سے کمالات نبوت حاصل ہو جاتے ہیں اور آپ کی روحانی توجہ سے مقام نبوت حاصل ہو سکتا ہے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیان فرماتے ہیں کہ یہ بلند مقام آپ کے علاوہ کسی اور نبی کو نہیں ملا اور ملاحظہ کریں مفتی محمود صاحب اس حوالہ سے کیا نتیجہ اخذ کر کے پاکستان کے قابل ممبران اسمبلی کے سامنے پیش کرتے ہیں۔مفتی صاحب نے کہا: