دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 36 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 36

36 مندرجہ بالا حوالوں سے واضح ہے کہ خود انا جیل کے مطابق انا جیل میں کوئی نئی شریعت نہیں پیش کی گئی بلکہ توریت کی پیروی کی سختی سے تلقین کی گئی ہے اور اس حقیقت کی نشاندہی حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے سوال و جواب کے دوران بھی فرمائی تھی لیکن مفتی محمود صاحب کے پاس اس بات کا کوئی جواب نہیں تھا۔خود قرآن کریم میں یہ ذکر ہے کہ بنی اسرائیل میں تو رات کے تابع انبیاء آتے رہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّا أَنزَلْنَا التَّوْرَةَ فِيهَا هُدًى وَّ نُورٌ يَحْكُمُ بِهَا النَّبِيُّونَ الَّذِينَ أَسْلَمُوا لِلَّذِينَ هَادُوا وَالرَّبْنِيُّونَ وَالْأَحْبَارُ بِمَا اسْتُحْفِظُوا مِنْ كِتَبِ اللَّهِ وَكَانُوا عَلَيْهِ شُهَدَاءَ فَلَا تَخْشَوُا النَّاسَ وَاخْشَوْن وَلَا تَشْتَرُوا بِايْنِي ثَمَنًا قَلِيلًا وَ مَنْ لَّمْ يَحْكُمُ بِمَا اَنْزَلَ اللهُ فَأُوْلَئِكَ هُمُ الْكَفِرُونَ۔(المائدة :۴۵) یقیناً ہم نے تو رات اتاری اس میں ہدایت بھی تھی اور نور بھی۔اس سے انبیاء جنہوں نے اپنے آپ کو ( کلیتا اللہ کے ) فرمانبردار بنا دیا تھا یہود کے لیے فیصلہ کرتے تھے اور اسی طرح اللہ والے لوگ اور علماء بھی اس وجہ سے کہ ان کو اللہ کی کتاب کی حفاظت کا کام سونپا گیا تھا (فیصلہ کرتے تھے ) اور وہ اس پر گواہ تھے۔پس تم لوگوں سے نہ ڈرواور مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو معمولی قیمت پر نہ بیچو اور جو اس کے مطابق فیصلہ نہ کرے جو اللہ نے نازل کیا ہے تو یہی لوگ ہیں جو کافر ہیں۔“ پھر اس کے بعد حضرت عیسی کے متعلق ارشاد ہے وَقَفَّيْنَا عَلَى آثَارِهِمْ بِعِيسَى ابْنِ مَرْيَمَ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَاةِ وَآتَيْنَاهُ الْإِنْجِيْلَ فِيهِ هُدًى وَّ نُورٌ وَّ مُصَدِّقًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْهِ مِنَ التَّوْرَةِ وَ هُدًى و مَوْعِظَةً لِّلْمُتَّقِينَ۔(المائدة :۴۷) ” اور ہم نے انہی کے نقوش پر ان کے پیچھے عیسی ابن مریم کو بھیجا اس کے مصدق کے طور پر جو تورات میں سے اس کے سامنے تھا۔اور ہم نے اسے انجیل عطا کی جس میں