دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 35 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 35

35 ثبوت نہیں تھا۔لاچار ہو کر اس کے لیے وہ یہ دور کی کوڑی لائے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ علیہ السلام نے حضرت عیسی علیہ السلام پر فضیلت کا دعویٰ کیا تھا اور اس سے مفتی محمود صاحب یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ حضرت آپ نے شرعی نبوت کا دعویٰ کیا تھا۔مفتی محمود صاحب نے کہا: ظاہر ہے کہ حضرت مسیح علیہ السلام تشریعی نبی تھے اور جو شخص آپ سے تمام شان میں یعنی ہر اعتبار سے بڑھ کر ہو تو وہ تشریعی نبی کیوں نہیں ہو گا ؟ اس لیے یہ کہنا کسی طرح درست نہیں کہ مرزا غلام احمد صاحب نے کبھی اپنی تشریعی نبوت کا دعوی نہیں کیا۔ان کے علاوہ مرزائی صاحبان عملاً مرزا صاحب کو تشریعی نبی ہی قرار دیتے ہیں یعنی ان کی ہر تعلیم ان کے ہر حکم کو واجب الاتباع مانتے ہیں خواہ وہ شریعت محمدیہ کے خلاف ہو۔“ مفتی محمود صاحب نے ایک ہی سانس میں کئی غلط دعاوی پیش کر دیئے تھے۔پہلی قابل تصیح بات تو یہ ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام شرعی نبی نہیں تھے جس شخص نے انجیل کو سرسری نظر سے بھی دیکھا ہو وہ اس بات کو بخوبی محسوس کر سکتا ہے کہ اس میں شرعی احکام موجود ہی نہیں ہیں بلکہ اس میں توریت کے احکامات کی پیروی کی ہدایت مذکور ہے جیسا کہ انجیل میں حضرت عیسی علیہ السلام کا ارشاد منقول ہے کیونکہ میں تم سے سچ کہتا ہوں کہ جب تک آسمان اور زمین ٹل نہ جائیں ایک نقطہ یا ایک شوشہ توریت سے ہرگز نہ ٹلے گا جب تک سب کچھ پورا نہ ہو جائے۔پس جو کوئی ان چھوٹے سے چھوٹے حکموں میں سے کسی کو توڑے گا اور یہی آدمیوں کو سکھائے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں سب سے چھوٹا کہلائے گا لیکن جو ان پر عمل کرے گا اور ان کی تعلیم دے گا وہ آسمان کی بادشاہی میں بڑا کہلائے گا۔(متنی باب ۵ آیت ۱۹،۱۸) انجیل کے مطابق حضرت عیسی علیہ السلام نے پیروکاروں کو یہ تلقین فرمائی تھی کہ وہ شرعی معاملات میں یہودی فقیہوں اور فریسیوں کے فتاوی کی ہی پیروی کریں جیسا کہ انجیل میں لکھا ہے: فقیہ اور فریسی موسیٰ کی گدی پر بیٹھے ہیں۔پس جو کچھ وہ تمہیں بتا ئیں وہ سب کرو اور ما نولیکن ان کے سے کام نہ کرو کیونکہ وہ کہتے ہیں اور کرتے نہیں۔“ (متی باب ۲۳ آیت ۳۲)