دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 37 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 37

37 ہدایت تھی اور نور تھا اور وہ اس کی تصدیق کرنے والی تھی جو تورات میں سے اس کے سامنے تھا اور متقیوں کے لئے ایک ہدایت اور نصیحت ( کے طور پر ) تھی۔“ مفسرین کرام ہمیشہ سے اس آیت کریمہ کی تشریح کرتے ہوئے بیان کرتے رہے ہیں کہ حضرت عیسی تو رات کی شریعت کے تابع تھے۔تفسیر ابن کثیر میں اس آیت کی تفسیر میں لکھا ہے انبیاء بنی اسرائیل کے پیچھے ہم عیسی علیہ السلام نبی کو لائے جو تورات پر ایمان رکھتے تھے، اس کے احکام کے مطابق لوگوں میں فیصلے کرتے تھے۔ہم نے انہیں اپنی بھی کتاب انجیل دی جس میں حق کی ہدایت تھی اور شبہات اور مشکلات کی توضیح تھی اور پہلی الہامی کتابوں کی تصدیق تھی۔ہاں چند مسائل جن میں یہودی اختلاف کرتے تھے۔ان کے صاف فیصلے اس میں موجود تھے۔“ (اردو تر جمه تفسیر ابن کثیر ترجمه ازمحمد جونا گڑھی ناشر فقہ الحدیث پبلیکشنز مطبوعه علی آصف پرنٹرز مارچ ۲۰۰۹ صفحه ۴۳۱) پھر تفسیر ابن عباس میں اس آیت کی تفسیر میں درج ہے: اور ہم نے ان کے بعد توریت کے احکام کی ترویج اور توحید کی موافقت اور تصدیق کے لیے حضرت عیسی علیہ السلام کو بھیجا۔اور ہم نے ان کو انجیل دی جو توحید اور رجم کے بیان میں توریت کے موافق تھی۔(تفسیر ابن عباس اردو ترجمہ ازمحمد سعید احمد عاطف ناشریکی دار الکتب جلد اصفحہ ۳۴۷) یہ حوالے اس بات کو بالکل واضح کر رہے ہیں کہ حضرت عیسی علیہ السلام تو ریت کی شریعت کے پیروکار تھے اور آپ کی بعثت کا مقصد توریت کے احکام کی ترویج کرنا تھا۔حیرت ہے کہ اپنے آپ کو عالم کہلانے کے باوجود مفتی محمود صاحب ان بنیادی حقائق سے بھی بے خبر تھے یا پھر دانستہ طور پر غلط حقائق پیش کر کے وقت گزار رہے تھے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت عیسی علیہ السلام کی بعثت کا مقصد بنی اسرائیل کو توریت کی تعلیم یاد دلا نا بیان فرماتے ہیں۔آپ فرماتے ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسی علیہ السلام کو مبعوث فرمایا تا وہ بنی اسرائیل کو تو رات کی اس تعلیم کو یاد دلائیں جسے وہ بھول چکے تھے اور انہیں اخلاق عظیمہ پر قائم