دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 26
26 صلى الله 3۔جیسا کہ ہم حوالہ درج کر چکے ہیں کہ مفتی محمود صاحب یہ نظریہ پیش فرما ر ہے تھے کہ ہمیشہ سے بغیر کسی استثناء کے تمام امت مسلمہ کا ختم نبوت کے بارے میں یہ نظریہ رہا ہے کہ آنحضرت مے کے بعد ” کوئی بھی شخص کسی بھی قسم کا نبی نہیں بن سکتا اور نہ آپ کے بعد کسی پر وحی آ سکتی ہے۔“ اور مفتی محمود صاحب نے یہ دعوئی پیش کیا تھا کہ اب تک پوری امت مسلمہ کا کسی ادنی اختلاف کے بغیر یہی عقیدہ رہا ہے۔جماعت احمدیہ پر سوالات کے دوران جماعت احمدیہ کے مخالفین کو جو بار بار خفت اُٹھانی پڑی تھی۔غالباً یہ اس کا نتیجہ تھا کہ یہ گروہ اس بات پر مجبور تھا کہ بند دروازوں کے پیچھے بالکل خلاف واقعہ دعاوی کو پیش کر کے اس شکست کے ازالے کی کوشش کرے اور جن دلائل کو مفتی محمود صاحب پیش کرنے کی کوشش کر رہے تھے ان کا رد پہلے ہی پیش کیا جا چکا تھا۔جماعت احمدیہ کے محضر نامہ میں آیت خاتم انبیین کی تفسیر میں جو احادیث نبویہ درج کی گئی تھیں ان میں صحیح مسلم کے باب ذکر الدجال کی ایک حدیث بھی درج کی گئی تھی اور اس ایک حدیث میں آنحضرت علی نے آنے والے نبی کو چار مرتبہ نبی اللہ کے الفاظ سے یاد فر مایا تھا۔(محضر نامہ صفحہ ۱۰۹) اور جب جماعت احمدیہ کے وفد پر سوالات کیے جارہے تھے تو اس ضمن میں حضرت مرزا ناصر احمد صاحب نے فرمایا تھا: ”میں نے ابھی عرض کی کہ امت محمدیہ شروع سے لے کر تیرہ سو سال تک حضرت نبی اکرم ﷺ کو ختم النبین مانتے ہوئے ایک ایسے مسیح کا انتظار کرتی رہی جسے مسلم کی حدیث میں خود آنحضرت ﷺ نے چار بار نبی اللہ کہا اور وہ خاتم النبین پر بھی ایمان لاتے تھے۔۔اس طرح سینکڑوں حوالے ہیں۔اگر آپ کو ضرورت ہو تو میں آٹھ دس دن میں وہ سینکڑوں حوالے آپ کو دکھا سکتا ہوں۔۔۔۔کہ تیرہ سوسال تک امت محمدیہ ایک نبی کا انتظار بھی کرتی رہی اور تمام سلف صالحین اس بات پر متفق تھے کہ اس نبی کا انتظار ختم نبوت کو توڑنے والا نہیں ہے۔“ ( کارروائی صفحہ ۶۸۸) اس موضوع پر دلائل آگے بڑھنے سے مخالفین اتنے خوفزدہ تھے کہ بیٹی بختیار صاحب نے بجائے