دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 27
27 اس بات پر رضامندی ظاہر کرنے کے کہ وہ حوالے سپیشل کمیٹی کے سامنے رکھے جائیں موضوع تبدیل کر کے مولانا ابوالعطاء صاحب کی ایک کتاب کے متعلق سوال پیش کر دیا اور اس تقریر کے دوران ایک بار پھر مفتی محمود صاحب نے حضرت خلیفہ اسیح الثالث کی بیان فرمودہ دلیل کا جواب دینے کی بجائے صرف ایک خلاف واقعہ دعویٰ پیش کرنے پر اکتفا کی۔بہت سے سلف صالحین جن کی عظمت کا کوئی انکار نہیں کر سکتا اس بات کا واضح اعلان کر چکے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اس امت کے افراد سے اللہ تعالیٰ کلام کرتا رہا ہے اور اللہ تعالیٰ سے وحی پاتے رہے ہیں مثلاً حضرت مجددالف ثانی اپنے مکتوب میں تحریر فرماتے ہیں: حق تعالیٰ کا کلام بندے کے ساتھ کبھی روبرو بواسطہ ہوتا ہے۔اس قسم کا کلام انبیاء میں سے بعض افراد کے لیے ثابت ہے اور کبھی انبیاء کے کامل تابعداروں کے لیے بھی ہوتا ہے جو وراثت اور تبعیت کے طور پر ان کمالات سے مشرف ہوتے ہیں۔جب اس قسم کا کلام ان میں سے کسی ایک کے ساتھ بکثرت ہو تو ایسے شخص کو محدث کہتے ہیں جیسے کہ امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق تھے۔“ دفتر دوم مکتوب ۵۵۱) مکتوبات امام ربانی، اردوترجمه از محمدسعیداحمد، ناشر مدینہ پبلیشنگ کمپنی جلد سوئم صفحه ۱۹) ائمہ اہل بیت میں سے بہت سے بزرگان نے اس بات کا اظہار فرمایا ہے کہ انہوں نے براہ راست اللہ تعالیٰ کا کلام سنا ہے۔چنانچہ حضرت مجدد الف ثانی اپنے ایک خط میں حضرت امام جعفر صادق کا ایک واقعہ تحریر فرماتے ہیں۔" حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی نسبت منقول ہے کہ ایک دفعہ آپ نماز پڑھ رہے تھے کہ بیہوش ہو کر گر پڑے۔آپ سے اس کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا کہ میں اس آیت کی برابر تکرار کرتا رہا حتی کہ میں نے اس کے کلام کرنے والے سے اس کو سنا۔“ ( دفتر سوم مکتوب ۱۱۸ مکتوبات امام ربانی ، اردو ترجمه از محمد سعید احمد، ناشر مدینہ پبلیشنگ کمپنی جلد سوئم صفحه ۱۳۰) اب پڑھنے والے خود فیصلہ کر سکتے ہیں کہ براہ راست اللہ تعالیٰ کا کلام سننا اگر وحی نہیں ہے تو