دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 199 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 199

199 وہ مغربی پنجاب یعنی پاکستان میں شامل کیے جائیں گے اور دوسرے علاقے مشرقی پنجاب یعنی ہندوستان میں شامل کیے جائیں گے اور اس کے علاوہ دیگر عوامل کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا۔اس بارے میں مفتی محمود صاحب نے کہا: " جماعت احمد یہ تقسیم کی مخالف تھی لیکن جب مخالفت کے باوجود تقسیم کا اعلان ہو گیا تو احمدیوں نے پاکستان کو نقصان پہنچانے کی ایک اور زبردست کوشش کی جس کی وجہ سے گورداسپور کا ضلع جس میں قادیان کا قصبہ واقع تھا پاکستان سے کاٹ کر بھارت میں شامل کر دیا گیا۔اس اجمال کی تفصیل یہ ہے کہ حد بندی کمیشن جن دنوں بھارت اور پاکستان کی حد بندی کی تفصیلات طے کر رہا تھا کانگریس اور مسلم لیگ کے نمائندے دونوں اپنے اپنے دعاوی اور دلائل پیش کر رہے تھے۔اس موقع پر جماعت احمد یہ نے باؤنڈری کمیشن کے سامنے اپنا الگ ایک محضر نامہ پیش کیا اور اپنے لئے کانگریس اور مسلم لیگ دونوں سے الگ موقف اختیار کرتے ہوئے قادیان کو ویٹیکن سٹی قرار دینے کا مطالبہ کیا۔( کارروائی صفحہ ۲۰۷۶) اس کے بعد انہوں نے کہا کہ قادیان کو ویٹیکن سٹی نہیں قرار دیا گیا البتہ اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ گورداسپور کا ضلع جس میں قادیان بھی شامل تھا پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا اور اس کے نتیجہ میں ہندوستان کو کشمیر تک راستہ مل گیا اور کشمیر بھی پاکستان کے ہاتھ سے نکل گیا۔اس وقت مفتی محمود صاحب نے یہ الزام تو لگا دیا تھا لیکن انہیں اس بات کا علم نہیں تھا کہ ایک دن باؤنڈری کمیشن کی کارروائی ، جماعت احمدیہ کے میمورنڈم سمیت شائع ہو جائے گی اور اس جھوٹ کا بھانڈا عین چورا ہے میں پھوٹے گا۔بہر حال ۱۹۸۳ء میں National Documentation Centre کی طرف سے باؤنڈری کمیشن اور جماعت احمدیہ کا میمورنڈم بھی شائع ہو گیا۔اس میمورنڈم کے پہلے صفحہ سے یہ بات ظاہر ہو جاتی ہے کہ مفتی محمود صاحب نے قومی اسمبلی میں ایک من گھڑت الزام پیش کیا تھا جیسا کہ گزشتہ کتاب میں بھی ذکر کیا جا چکا ہے کہ جماعت احمدیہ کے میمورنڈم کی پہلی سطروں میں ہی یہ مطالبہ درج ہے کہ قادیان کو مغربی پنجاب یعنی پاکستان میں شامل کرنا چاہیے اور تو اور صدر مسلم لیگ