دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 200
200 تحصیل بٹالہ نے بھی تحصیل بٹالہ کے مسلمانوں کی طرف سے ایک میمورنڈم پیش کیا تھا جس میں یہ لکھا گیا تھا کہ مسلمانوں میں سے احمدی ( حضرت ) مرزا غلام احمد کو نبی مانتے ہیں اور قادیانی واشگاف الفاظ میں پاکستان کی حمایت کا اعلان کر چکے ہیں۔قادیان تحصیل بٹالہ (جو کہ ضلع گورداسپور میں ہے ) میں ہے اس لیے ہماری تحصیل کو پاکستان میں شامل کرنا چاہیے۔(The Partition of the Punjab, published by Sang-e-Meel Publications Vol۔11993, p 428&472) حقیقت یہ ہے کہ جب کسی نے جماعت احمدیہ پر خلاف واقعہ الزام لگانا ہوتو وہ بغیر حوالے کے احمد جو جی میں آئے الزام لگا دیتا ہے۔اور پھر بعد میں دوسرے مخالفین اس کو حوالہ بنا کر پیش کرتے ہیں اور جماعت احمدیہ پر الزامات دہراتے جاتے ہیں۔جب کہ اس قسم کے الزامات کا سچائی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔یہی کیفیت ان الزامات کی ہے جو کہ پنجاب کے باؤنڈری کمیشن کے حوالے سے جماعت احمدیہ پر لگائے جاتے ہیں۔اس مرحلہ پر مفتی محمود صاحب نے روزنامہ مشرق ۳ فروری ۱۹۶۴ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون کا حوالہ پیش کیا جو میر نوراحمد صاحب نے تحریر کیا تھا۔اس میں بنیادی طور پر تین دعاوی پیش کیے گئے تھے۔پہلا دعویٰ یہ تھا کہ باؤنڈری کمیشن کے اعلان سے پہلا مسلمان ممبران پر یہی تاثر تھا کہ ضلع گورداسپور کو پاکستان میں شامل کیا جائے گا کیونکہ اس ضلع میں مسلمانوں کی اکثریت تھی۔یہ بات بالکل غلط ہے کیونکہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم چوہدری محمد علی صاحب نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ انہیں لیاقت علی خان صاحب نے کہا کہ قائد اعظم کو بہت تشویشناک اطلاعات مل رہی ہیں کہ باؤنڈری کمیشن غیر منصفانہ فیصلہ کرے گا اور خاص طور پر گورداسپور کے ضلع کو بھارت کے حوالے کرنے کے بارے میں یہ اطلاعات مل رہی ہیں۔اس کے بعد وہ لکھتے ہیں کہ انہوں نے خود Lord Ismay کے دفتر میں نقشہ پر لائن لگی دیکھی جس کی رو سے گورداسپور کے ضلع کو بھارت میں شامل دکھایا گیا تھا۔(The Emergence of Pakistan, by Chaudry Muhammad Ali,