دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 198
198 ہوئے کہ اگر ہندوؤں اور مسلمانوں میں کوئی سمجھوتا نہ ہوا تو جماعت احمدیہ کا لائحہ عمل کیا ہوگا فرمایا اگر خدانخواستہ ایسی صورت پیدا ہو گئی تو ہم مسلمانوں کے ساتھ ہوں گے۔جو حال ان کا وہی ہمارا۔بعض لوگ یہ اعتراض کرتے ہیں کہ مسلمانوں نے ہم پر بہت مظالم ڈھائے ہیں، ہمیں ان سے نہیں ملنا چاہیے حقیقت میں ہمیں جس قدر ترقی حاصل ہوئی ہے وہ مسلمانوں میں ہی ہوئی ہے۔میں نے بسا اوقات دیکھا ہے جب کبھی بھی مسلمانوں پر کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ ہمارے ساتھ مل جاتے ہیں اور ان کی عداوت بالکل کا لعدم ہو جاتی ہے جس سے پتہ لگتا ہے کہ انہیں ضرور ہم سے کوئی حقیقی تعلق ہے اور عداوت عارضی اور ظاہری طور پر ہوتی ہے۔اس کے بعد حضور نے فرمایا کہ اگر تمام قو میں شیر وشکر ہو کر نہ رہ سکیں تو ہم مسلمانوں کا ساتھ دیں گے۔اگر وہ ہلاکت کے گڑھے میں گریں گے تو ہم بھی ان کے ساتھ ہوں گے۔(الفضل ۱٫۵ پریل ۱۹۴۷، صفحه۳) یہ تھا وہ پورا حوالہ جسے مفتی محمود صاحب ایک خوفناک سازش قرار دے رہے تھے۔باؤنڈری کمیشن کے حوالے سے الزامات اور جماعت احمد یہ پر غداری کا بے بنیادالزام اب مفتی محمود صاحب اپنی تقریر کے اختتام پر پہنچ رہے تھے۔چونکہ اب تک مفتی محمود صاحب زیر بحث موضوع پر کوئی ٹھوس گفتگو نہیں کر سکے تھے۔اس لیے معلوم ہوتا ہے کہ اب ان کی یہی کوشش تھی کہ کسی طرح جماعت احمدیہ کے خلاف مزید الزامات لگا کر ان کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑ کائے جائیں اور یہ انسانی فطرت ہے کہ جب کسی شخص یا گروہ کے خلاف نفرت کے جذبات بھڑک اُٹھیں تو پھر ہوش کے ناخن کوئی نہیں لیتا اور با آسانی انصاف کا خون کیا جا سکتا ہے۔اس کام کو سرانجام دینے کے لیے ایک بار پھر مفتی محمود صاحب کو جھوٹ کا سہارا لینا پڑا۔یہ تو سب جانتے ہیں کہ آزادی کے وقت یہ فیصلہ ہوا تھا کہ پنجاب اور بنگال کے صوبوں کو پاکستان اور ہندوستان کے درمیان تقسیم کیا جائے گا اور یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ پنجاب کے جو مسلمان اکثریت کے علاقے ہوں گے