دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 197
197 اس سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ اس قرارداد کے محرکین بھی بخوبی علم رکھتے تھے کہ وہ جماعت احمدیہ پر جھوٹے الزامات لگا رہے تھے۔مفتی محمود صاحب جماعت احمدیہ کے خلاف ممبران اسمبلی کو اکسانے کے لیے کہ رہے تھے کہ جماعت احمد یہ تو کانگرس کے ساتھ ملی ہوئی تھی تاکہ مسلمانوں میں ففتھ کالم کی حیثیت سے کام کرے۔جب کہ اس قرارداد کے محرکین کی تحریر ہی اس بات کا ثبوت دے رہی ہے کہ یہ جھوٹ تھا۔خود دیوبندی علماء کانگرس کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور مفتی صاحب دیو بندی گروہ سے تعلق رکھتے تھے۔مفتی صاحب نے یہ الزام لگایا کہ جماعت احمدیہ نے قیام پاکستان کی مخالفت کی جبکہ خود سردار صاحب کی تحریر اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ یہ مخالفت تو جماعت اسلامی نے کی تھی۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے یہ لا یعنی دعوئی پیش کیا کہ جب پاکستان بن گیا تو احمدی اس بات کے لیے کوشاں تھے کہ دوبارہ اکھنڈ بھارت وجود میں آجائے۔اور حیرت کی بات یہ ہے کہ اس کے لیے وہ الفضل کے جو حوالے پیش کر رہے تھے وہ تقسیم برصغیر سے پہلے کے تھے۔اس میں ایک خواب کی تعبیر کے سلسلہ میں حضور کا یہ ارشاد درج تھا کہ اب یہ سمجھا جا رہا ہے کہ شاید اختلاف اتنا شدید ہو چکا ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں میں صلح ناممکن ہے لیکن اس خواب سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید ابھی بھی یہ صورت حال ممکن ہو اور ہندوستان میں ہندو مسلمان اور عیسائی اور سب مذاہب کے لوگ شیر وشکر ہو کر رہیں اور یہ بھی ذکر تھا کہ اگر تمام ہندوستان احمدی ہو جائے تو دنیا میں تبلیغ کے لیے ایک مضبوط ہیں مہیا ہوسکتی ہے۔مفتی محمود صاحب کا یہ الزام بالکل نا قابل فہم تھا۔ہر ملک میں مختلف مذاہب کے لوگوں کو شیر و شکر ہو کر رہنا چاہیے۔آج بھی پاکستان میں تمام مذاہب کے لوگوں کو شیر و شکر ہو کر رہنا چاہیے اور ہندوستان میں بھی تمام مذاہب کے لوگوں کو شیر وشکر ہو کر رہنا چاہیے اور یاد رہے کہ اس سے قبل خود مسلم لیگ نے کیبنٹ مشن پلان منظور کرنے کا اعلان کیا تھا جس کی رو سے ہندوستان نے تین یونٹوں کے کنفیڈریشن کی صورت میں قائم رہنا تھا اور اس وقت اس قسم کی مختلف تجاویز زیر غور تھیں کہ مسلم لیگ اور کانگرس میں کوئی سمجھوتا ہو جائے اور الفضل کے جس شمارے کا حوالہ پیش کیا جا رہا تھا وہ بھی جزوی تھا۔سارے تجزیہ کے بعد حضور نے اس بات کا تجزیہ کرتے