دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 196
196 اس قرارداد کے محرکین کی طرف سے یہ الزامات کا طومار پیش کر رہے تھے۔اس قرار داد کے محرکین میں سے ایک سردار شوکت حیات صاحب بھی تھے اور اس وقت وہ بھی مفتی محمود صاحب اور جماعت اسلامی کے ہمنوا بن کر جماعت احمدیہ کے خلاف یہ قرارداد پیش کر رہے تھے۔اس قرار داد میں یہ دعویٰ کیا گیا تھا کہ جماعت احمد یہ سامراج کی پیداوار تھی۔پاکستان کے قیام کی مخالف اور دشمن تھی وغیرہ وغیرہ لیکن حقیقت کیا تھی؟ یہ اس قرارداد کے محرکین بھی بخوبی جانتے تھے۔اس قرارداد کے ایک محرک سردار شوکت حیات صاحب تحریک پاکستان کے کارکن بھی رہے تھے۔انہوں نے ۱۹۹۵ء میں ایک کتاب The Nation that lost its soul تحریر فرمائی۔اس میں انہوں نے اعتراف کیا کہ تحریک پاکستان کے وقت دیوبندی علماء کی بھاری اکثریت کانگرس کے ساتھ تھی۔سردار شوکت حیات صاحب پٹھانکوٹ میں ایک جلسہ سے خطاب کرنے گئے تھے۔اس دوران انہیں قائد اعظم نے پیغام بھجوایا کہ وہ مودودی صاحب سے ملیں اور قادیان جا کر امام جماعت احمدیہ سے بھی ملیں اور ان دونوں سے درخواست کریں کہ وہ پاکستان کے قیام کے لیے دعا بھی کریں اور اس کی حمایت بھی کریں۔پہلے وہ حضرت امام جماعت احمدیہ سے ملنے قادیان گئے۔وہ لکھتے ہیں کہ میں آدھی رات کو وہاں پہنچا۔اس وقت امام جماعت احمد یہ آرام کے لیے تشریف لیجا چکے تھے لیکن یہ سن کر کہ سردار صاحب قائد اعظم کا پیغام لے کر آئے ہیں وہ فوراً آگئے۔پیغام سن کر انہوں نے کہا کہ وہ شروع ہی سے اس کے لیے دعا کر رہے ہیں اور جہاں تک حمایت کا تعلق ہے تو اگر کوئی ایک احمدی بھی مسلم لیگ کے خلاف کھڑا ہوا تو وہ احمدیوں کی حمایت سے محروم ہو جائے گا۔پھر سردار شوکت حیات صاحب ، مودودی صاحب سے ملے اور یہ پیغام پہنچایا۔اس پر مودودی صاحب نے جواب دیا کہ وہ نا پاکستان کے لیے کس طرح دعا کر سکتے ہیں۔پھر سردار شوکت حیات صاحب لکھتے ہیں کہ پاکستان بننے کے بعد مودودی صاحب نے یہ فتویٰ دیا کہ جو کشمیر جا کر لڑتا ہوا مارا جائے گا وہ کتے کی موت مارا جائے گا۔(The Nation that lost its soul, by Sardar Shaukat Hayat Khan, published by Jang Publishers, April 1995, p 147-148)