دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 190
190 طرف ترغیب دی جائے یا پھر اہم دینی فرائض سے منع کر دیا جائے۔ہم اس کی مثال پیش کرتے ہیں اور سلسلہ احمدیہ کے اشد ترین مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی تحریر سے پیش کرتے ہیں۔انہوں نے ۱۸۹۵ء میں اپنے رسالہ ” اشاعۃ السنہ میں ایک بہت طویل مضمون تحریر کیا جس کا عنوان تھا ” کیا ہندوستان دارالحرب ہے؟“ اس میں مولوی صاحب نے اس بات کا رونا رویا ہے کہ کچھ مولوی صاحبان یہ فتنہ اٹھا رہے ہیں کہ چونکہ ہندوستان دارالحرب ہے ، اس لیے ہم سود لیں گے اور سود کا کاروبار کریں گے اور اس غرض سے انہوں نے ملکہ وکٹوریہ کی جو بلی کی نسبت سے ایک" ڈائمنڈ جوبلی بینک کا قیام بھی تجویز کیا ہے۔گو کہ یہ بینک سود کا کاروبار کرے گالیکن اسلامی بینک کہلائے گا کیونکہ ہندوستان دارالحرب ہے اور مولوی صاحب لکھتے ہیں کہ سودی کاروبار کی حلت کو ثابت کرنے کے لیے علماء کا لاہور میں ایک جلسہ بھی ہو چکا ہے۔مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے ان مولوی صاحبین کو شائقین حلت سود کا نام بھی دیا تھا۔(اشاعۃ السنہ نمبر ۹ ۱۰ جلد ۱۸صفحه ۲۸۵ تا ۳۸۴) ایک اور فتنہ یہ اُٹھایا جا رہا تھا کہ چونکہ ہندوستان دارالحرب ہے اس لیے اب جمعہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔اس طرح مسلمانوں کو تمام دینی فرائض سے غافل کیا جا رہا تھا اور اشاعۃ السنہ کے اس شمارے کے صفحہ ۳۶۴ پر مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب نے اس فتنہ کا ذکر بھی کیا ہے اور ان کا رد کیا ہے۔ظاہر ہے کہ انگریز حکمرانوں کو ایسے فتاوی کی کیا پر وا ہوسکتی تھی جن کے نتیجہ میں ان کے خلاف تو کوئی بغاوت نہ ہو لیکن مسلمان ممنوعہ کاموں میں مبتلاء ہوں اور اپنے فرائض سے غافل ہو جائیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جن اشتہارات کا حوالہ مفتی صاب نے دیا تھا ان میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا گیا تھا کہ مسلمانوں کو جمعہ پڑھنے کے لیے رخصت دی جائے اور ان علماء کا پردہ چاک کیا گیا تھا جو کہ ان عجیب فتاوی کی آڑ میں مسلمانوں کو ان کے دین سے دور لے کر جا رہے تھے اور یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ ان میں سے کسی نے کبھی انگریز حکومت کے خلاف انگلی بھی نہیں اُٹھائی تھی۔یہاں اس بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ اس قسم کے الزامات جماعت احمد یہ تک محدود نہیں