دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 189 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 189

189 ” (جیسا کہ ملک ہندوستان ہے ) تو جب تک اس میں ادائے شعائر اسلام کی آزادی رہے وہ بحکم حالت قدیم دار الا سلام کہلاتا ہے۔“ (اشاعۃ السنہ نمبر ۹ جلد ۹ صفحه ۲۷۵) 5 مندرجہ بالا فتاویٰ تو واضح ہیں لیکن بعض علماء ایک اور طریقہ اختیات کر رہے تھے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں دیو بند سے اس بارے میں جو فتویٰ جاری ہوا وہ مولوی رشید احمد گنگوہی کا تھا اور وہ یہ تھا: ”ہند کے دارالحرب ہونے میں اختلاف علماء کا ہے بظاہر تحقیق حال بندہ کی خوب نہیں ہوئی حسب اپنی تحقیق کے سب نے فرمایا ہے اور اصل مسئلہ میں کسی کو خلاف نہیں اور بندہ کو بھی خوب تحقیق نہیں کہ کیا کیفیت ہند کی ہے۔فقط (فتاوی رشید یه کامل مبوب، رشید احمد گنگوہی، ناشر محمد سعید اینڈ سنز کراچی صفحه ۴۳۰) یہ کس طرح ممکن ہیں کہ یہ صاحب اسی بات سے بے خبر ہوں کہ اس وقت ہندوستان کی کیا کیفیت ہے؟ صرف مہم جواب دے کر جان چھڑائی جا رہی ہے تا کہ دونوں گروہ خوش رہ سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ جیسا کہ ہم حوالہ درج کر چکے ہیں مہتمم دیو بند اور بانی کے فرزند خود انگریزوں کو مسلمانوں کی مخبری کرتے رہے تھے۔6۔خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی زندگی میں علماء کے زیادہ تر فتاویٰ یہی تھے کہ ہندوستان دار الاسلام ہے یا پھر رشید احمد گنگوہی صاحب کی طرح گول مول بات کی جارہی تھی۔لیکن سب سے اہم بات یہ ہے کہ جو قلیل علماء بالعموم نجی مجالس میں ہندوستان کو دارالحرب قرار دے رہے تھے ، وہ کس لیے ایسا کر رہے تھے؟ کیا وہ اس لیے کر ہے تھے تا کہ انگریزوں کے خلاف جہاد شروع کر کے انہیں ہندوستان سے نکالا جا سکے؟ ہر گز نہیں ! ۱۹۰۸ء تک کوئی ایسی مثال نہیں کہ کسی مدرسہ سے فتویٰ جاری ہوا ہو کہ ہندوستان دارالحرب ہے اور پھر وہاں سے حکومت کے خلاف جنگ کا آغاز کر دیا گیا ہو یا پھر وہ مدرسے کا سامان سمیٹ کر وہاں سے ہجرت کر گئے ہوں۔تو پھر یہ چند علماء ہندوستان کو دارالحرب کیوں قرار دیتے تھے ؟ یہ اس لیے کیا جاتا تھا تا کہ مسلمانوں کو حرام کاموں کی