دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 191 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 191

191 ہیں۔مولوی صاحبان نے جب کسی پر کفر کا فتویٰ لگانا ہو تو اس پر یہ الزام ضرور ہیں کہ یہ عیسائیوں، یہودیوں اور اسلام کے دشمنوں کے ایجنٹ ہیں۔چنانچہ یہ الزام شیعہ احباب پر بھی لگایا گیا جیسا کہ کتابچہ خمینی اور اثناء عشریہ کے بارے میں علماء کرام کا متفقہ فیصلہ میں لکھا ہے منہاج السنتہ میں مطاعن صحابہ کے جواب خلفاء ثلثہ کی خلافت کے دلائل اور شعی عقیدہ امامت کی تردید کے علاوہ شیخ الاسلام ابن تیمہ نے جابجا اس اہم تاریخی حقیقت کو بھی پوری صراحت اور وضاحت سے لکھا ہے کہ تاریخ ہر دور میں شیعوں نے اسلام کے دشمنوں یہود ونصاریٰ اور کفار و منافقین کا ساتھ دیا ہے۔اس سلسلہ میں انہوں نے ایک مقام پر کافی تفصیل کے ساتھ گزشتہ تاریخ میں شیعوں کے اسلام دشمنوں کی حمایت کے اس مسلسل رویہ کو بیان کرنے کے بعد لکھا کہ ” جب تا تاری مشرق کی طرف سے آئے اور انہوں نے مسلمانوں کا قتل عام کیا اور خراسان ، عراق ، شام اور جزیرہ میں ان کے خون کے دریا بہائے تو شیعوں نے مسلمانوں کے خلاف ان حملہ آور تاتاریوں کا ساتھ دیا۔اسی طرح شام میں جب عیسائیوں نے مسلمانوں سے جنگ کی تب بھی روافض ان کی کمک پر تھے۔“ یہ سب لکھنے کے بعد امت کو ان کے مستقبل کے عزائم سے ان الہامی الفاظ میں باخبر کیا ہے کہ اگر یہودیوں کی عراق میں یا کہیں اور حکومت قائم ہو جائے تو یہ روافض ان کے 66 سب سے بڑے مددگار ہوں گے۔“ کشمیر کمیٹی کا تذکرہ (خمینی اور اثناء عشری کے متعلق علماء کرام کا متفقہ فیصلہ۔بینات خصوصی اشاعت صفحہ ۱۱) اب مفتی محمود صاحب نے یہ واویلا شروع کیا کہ جب مظلوم کشمیریوں کی مدد کے لیے کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا تو احمدیوں نے اس موقع پر پھر غداری کی اور اس کمیٹی کی اندر کی خبریں انگریز حکمرانوں تک پہنچارہے تھے۔انہوں نے کہا: