دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 188 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 188

188 میں اس کا ایک اجلاس ہوا جس میں علماء کو خاص طور پر مدعو کیا گیا کہ وہ اسلامی نقطہ نگاہ سے راہنمائی کریں کہ اب مسلم لیگ بلکہ ہندوستان کے مسلمانوں کا لائحہ عمل کیا ہونا چاہیے۔چنانچہ بہت سے علماء اس اجلاس میں شامل ہوئے۔شاید برطانوی حکومت کو بھی کچھ وہم اُٹھا ہو کہ کہیں اس موقع پر یہ علماء ہندوستان کو دارالحرب نہ قرار دے دیں۔تحریک خلافت اپنے عروج پر تھی اور مسلمانوں کے جذبات بھڑ کے ہوئے تھے۔چنانچہ خاص طور پر سی۔آئی۔ڈی بھی بھجوائی گئی کہ وہ رپورٹ دے کہ اس اجلاس میں کیا بیتی۔سی۔آئی۔ڈی نے اس موقع پر جور پورٹ بھجوائی تھی وہ اب شائع ہو چکی ہے۔اس کے مطابق بہت سے علماء اس اجلاس میں شامل ہوئے اور ان کے نمایندہ کے طور پر مولانا عبدالحي صاحب نے خطاب کیا اور ہندوستان کی شرعی حیثیت کے مطابق یہ اعلان کیا کہ ہندوستان کے متعلق دو نظریات پیش کیے جا رہے ہیں۔ایک تو یہ کہ ہندوستان اس وقت دارالاسلام ہے اور دوسرا یہ کہ ہندوستان دارالامان ہے۔(Indian Muslims, A Documentary Record 1900-1947, Vol۔5, compiled by Shan Muhammad p 240-245) 3۔یہ ایک ایسا موضوع تھا جس کا ذکر اس وقت لیجسلیٹو اسمبلی میں بھی آیا اور اس موقع پر قائد اعظم محمد علی جناح بھی اسمبلی میں موجود تھے۔ایک مسلمان ممبر اسمبلی غزنوی صاحب نے اسمبلی میں کہا: "India has since the very beginning of British rule been a land Darul Islam for British Indian Mussalmans۔(The works of Quaid-i-Azam Mohammad Ali Jinnah, Vol۔2, compiled by Dr۔Riaz Ahmad,p 74) ترجمہ : ہندوستان برطانوی حکومت کے آغاز سے ہی ہندوستان کے مسلمانوں کے لیے ”دار الاسلام“ ہے۔4۔جماعت احمدیہ کے اشد ترین مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب اس بارے میں لکھتے ہیں۔