دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 167
167 یہ ایک مضحکہ خیز دعویٰ تھا جب برطانوی افواج نے عراق پر قبضہ کیا اور سلطنت عثمانیہ کی افواج کو وہاں سے پسپا ہونا پڑا تو اس وقت General Maude ان افواج کی قیادت کر رہے تھے اور عراق کا علاقہ انہی کے ماتحت رہا جب ان کا انتقال ہو گیا تو جنرل ولیم مارشل (William Marshal) نے ان کی جگہ کام شروع کر دیا۔ویسے بھی عقل یہ بات قبول نہیں کر سکتی کہ ایک جنرل کے ہوتے ہوئے ایک میجر کو حکمران بنا دیا جائے۔سب سے بڑی بات یہ کہ یہ الزام تاریخی طور پر بالکل غلط تھا۔گورنر کا عہدہ کسی کو خفیہ طور پر تو نہیں دیا جا سکتا۔آخر مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنو اگروپ نے کہاں پڑھ کر یہ انکشاف کیا تھا اور یہ بات حیران کن ہے کہ قومی اسمبلی میں کسی نے کھڑے ہو کر یہ بھی نہیں کہا کہ واضح طور پر غلط حقائق بیان کیے جارہے ہیں۔مسئلہ فلسطین پر مفتی صاحب کے تبصرے عراق کی تاریخ کے بخیے ادھیڑنے کے بعد مفتی محمود صاحب فلسطین اور قیام اسرائیل کی طرف متوجہ ہوئے۔ظاہر ہے کہ وہ اسرائیل کے قیام اور اہل فلسطین کے حقوق کے سلب ہونے کا الزام جماعت احمدیہ پر لگانے کی کوششیں کر رہے تھے۔اس مسئلہ پر اپنے تبصرہ کا آغاز انہوں نے ایک نامکمل اور مسخ شدہ حوالہ پیش کرنے سے کیا۔وہ یہ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے تھے کہ یہودی احمدیوں کی مدد سے فلسطین میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے تھے لیکن انہوں نے ایسا حوالہ پیش کیا جو خود ان کے اس الزام کی تردید کر رہا تھا۔پیسہ اخبار نے لکھا تھا کہ عیسائیوں اور یہودیوں کی نسبت مسلمان بیت المقدس کی تولیت کے حقدار ہیں کیونکہ وہ سب نبیوں پر ایمان لاتے ہیں۔اس پر الفضل شمارہ ۳۶ جلد 9 میں اس پر تبصرہ کیا تھا کہ اس کلیہ کی رو سے تو مسلمانوں میں احمدی فرقہ کے لوگ اس کی تولیت کے سب سے زیادہ حقدار ہیں کیونکہ باقی انبیاء اور آنحضرت ﷺ کے ساتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر بھی ایمان لائے ہیں۔اگر یہ تھی وہ سازش جس کا مفتی محمود صاحب ذکر کر رہے تھے تو اس کی رو سے تو فلسطین میں احمدیوں کی حکومت ہونی چاہیے تھی اور یہودیوں کا تسلط نہیں ہونا چاہیے تھا۔پھر یہ بے سروپا الزام کس بنیاد پر لگایا گیا کہ