دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 168
168 اسرائیل جماعت احمدیہ کی کوششوں سے بنا تھا اور مفتی محمود صاحب نامکمل عبارت پیش کر رہے تھے کیونکہ اس کے آگے لکھا ہے۔باقی رہی تولیت۔اس سے ہماری مراد کسی جائداد پر قبضہ کرنا یا اوقات یا نذرو نیاز کی مدد لینا نہیں بلکہ ہم تو یہ چاہتے ہیں کہ ہمیں وہاں کے لوگوں کو حقیقی اسلام سکھانے کا موقع اور آسانیاں حاصل ہوں۔“ (روز نامہ الفضل ۷ نومبر ۱۹۲۱ صفحی۴ ) مکمل عبارت پوری طرح مفتی صاحب کے الزام کی تردید کرتی ہے۔اس کے بعد اپنے الزامات میں کچھ جان پیدا کرنے کے لیے مفتی محمود صاحب نے الفضل کا یہ حوالہ پڑھا: ” میں نے یہاں کے ایک اخبار میں ایک آرٹیکل دیا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ یہ وعدہ کی زمین ہے جو یہودیوں کو عطا کی گئی تھی مگر نبیوں کے انکار اور بالآخر مسیح کی عداوت نے یہود کو ہمیشہ کے واسطے وہاں کی حکومت سے محروم کر دیا اور یہودیوں کو سزا کے طور پر حکومت رومیوں کو دے دی گئی اور بعد میں عیسائیوں کو ملی پھر مسلمانوں کو۔اب اگر مسلمانوں کے ہاتھ سے وہ زمین نکلی ہے تو پھر اس کا سبب تلاش کرنا چاہیے۔کیا مسلمانوں نے کسی نبی کا انکار تو نہیں کیا ؟ سلطنت برطانیہ کے انصاف اور امن اور آزادی مذہب کو ہم دیکھ چکے ہیں۔آزما چکے ہیں اور آرام پارہے ہیں۔اس سے بہتر کوئی حکومت مسلمانوں کے لئے نہیں۔بیت المقدس کے متعلق جو میرا مضمون یہاں (انگلستان) کے اخبار میں شائع ہوا ہے اس کا ذکر میں اوپر کر چکا ہوں۔اس کے متعلق وزیر اعظم برطانیہ کی طرف سے ان کے سیکرٹری نے شکریہ کا خط لکھا ہے۔فرماتے ہیں کہ مسٹر لائڈ جارج اس مضمون کی بہت قدر کرتے ہیں۔“ الفضل قادیان جلد ۵ نمبر ۷۵ مورخه ۱۹ / مارچ ۱۹۱۸ء) ( کارروائی صفحه ۲۰۴۵) مفتی محمود صاحب کی تقریر کا یہ حصہ ہم نے من و عن پیش کر دیا ہے۔صاف ظاہر ہے کہ مفتی محمود