دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 166
166 تک پہنچا دئیے جائیں۔اور بغداد پر قبضہ ہونے کے بعد جب ہندوستان کے علماء جمع ہوئے کہ وہ برطانیہ سے آئے ہوئے وفد کو اپنی گزارشات پیش کریں تو ان کا میمورنڈم ان الفاظ سے شروع ہوا۔ہم یہ حوالہ بھی جماعت احمدیہ کے اشد مخالف جریدے اہلحدیث سے پیش کر رہے ہیں۔”جناب عالی ! ہم لوگ جنہیں علماء ہند نے اپنا نمائندہ منتخب کیا ہے۔اس غرض سے حاضر ہوئے ہیں کہ جناب عالی کی سرزمین ہند پر بغرض صلاح و فلاح جملہ رعایا تشریف فرما ہونے پر صمیم قلب سے خیر مقدم کریں اور چند معروضات جن کا تعلق خاص کر فرقہ اہل اسلام سے ہے۔سمع اعلیٰ تک پہونچانے کے اجازت خواہ ہیں۔جناب عالی! کا ایسے وقت میں جب کہ سلطنت برطانیہ ایک عظیم و مہیب جنگ میں شریک ہے اور بریٹن حکومت کی توجہ تمام تر اس جانب منعطف ہے تشریف لا نا اراکین حکومت برطانیہ کی معدلت پروری اور عدل گستری کے محسوسات سے مسلمانان ہند پر عموماً اور ہم طبقہ علماء پر خصوصاً منکشف ہے جس کے لیے دولت برطانیہ و دل عالم میں مشہور رہی ہے۔ہم کو جب یہ اطلاع ہوئی کہ جناب والا کو اپنی دور افتادہ ہندی رعایا کی ترقی و عطائے حقوق کا اس درجہ خیال و پاس ہے کہ اس تشویشناک زمانے میں خاص اس مقصد کے لیے بہ نفس نفیس زحمت تشریف آوری گوارا فرمائی ہے۔66 اہلحدیث ۳۰ / نومبر ۱۹۱۷ ، صفحه ۲) تو بغداد پر قبضہ کے بعد مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر سے اور علماء کی طرف سے حکومت کو اس طرح کے پیغامات بھجوائے جا رہے تھے اور اظہار وفاداری کیا جا رہا تھا۔اس پس منظر میں جماعت احمدیہ پر کسی قسم کا الزام لگانا ایک بے معنی بات ہے۔بغداد کا فرضی گورنر مفتی محمود صاحب نے بغداد کی کہانی کا انجام ایک عجیب وغریب غلط بیانی پر کیا۔انہوں نے جوش سے یہ الزام لگایا کہ سلطنت برطانیہ نے عراق پر قبضہ کرنے کے بعد احمدیوں کو نواز نے کے لیے ایک احمدی عبدالرزاق صاحب کو جو اس وقت فوج میں میجر کے عہدہ پر کام کر رہے تھے عراق کا گورنر مقرر کیا۔