دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 163 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 163

163 کو زمین پر حکمران بناتا ہے جو اس کا اہل ہوتا ہے۔پس ہم پھر کہتے ہیں کہ ہم خوش ہیں کیونکہ ہمارے خدا کی بات پوری ہوتی ہے اور ہمیں امید ہے کہ برٹش حکومت کی توسیع کے ساتھ ہمارے لئے اشاعت اسلام کا میدان بھی وسیع ہو جائے گا اور غیر مسلم کو مسلم بنانے کے ساتھ ہم مسلمان کو پھر مسلمان کریں گے۔“ 66 اخبار الفضل جلد ۲ نمبر ۱۰۳ مورخه ۱۱ فروری ۱۹۱۵ء) ( کارروائی صفحه ۲۰۴۲) مفتی محمود صاحب نامکمل حوالہ پیش کر رہے تھے۔ان واقعات کا پس منظر یہ تھا کہ پہلی جنگ عظیم سے قبل بیشتر عرب ممالک سلطنت عثمانیہ کے ماتحت تھے اور پہلی جنگ عظیم کے دوران برطانیہ نے عرب امراء اور ان کے عوام کے ساتھ مل کر ایک منصوبہ تیار کیا جس کے تحت اس جنگ کے دوران عرب ممالک نے سلطنت عثمانیہ کے خلاف بغاوت کر دی اور الفضل کے اس مضمون میں بھی لارڈ ہارڈنگ کے عرب ممالک کے دورہ کا ذکر تھا۔لارڈ ہارڈنگ ہندوستان کے وائسرائے تھے اور یہ ذکر تھا کہ انہوں نے وہاں کن کن شخصیات سے ملاقات کی۔چنانچہ لکھا ہے کہ وہاں لارڈ ہارڈنگ نے فرمانروائے کویت، شیخ بحرین اور نقیب بصرہ سے ملاقاتیں کیں اور ان میں سے کچھ کو سلطنت برطانیہ کی طرف سے تمغوں سے نوازا۔اب اگر مفتی محمود صاحب کا یہ دعویٰ درست تھا کہ لارڈ ہارڈنگ نے اس دورہ میں سلطنت عثمانیہ کے خلاف سازش تیار کی تھی تو بجائے جماعت احمد یہ پر اس کا غصہ نکالنے کے ان مسلمان لیڈروں پر اس کا غصہ نکالنا چاہیے تھا۔یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ وہ اس معاملہ میں سلطنت برطانیہ سے مکمل تعاون کر رہے تھے اور ان کے آلہ کار بنے ہوئے تھے اور سلطنت برطانیہ انہیں تمغوں سے بھی نواز رہی تھی۔ان میں کویت کے اس وقت کے فرمانروا شیخ مبارک بن صباح اور بعد میں بننے والے فرمانروا شیخ بن جابر الصباح بھی شامل تھے۔اگر مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنوا مولوی صاحبان نے کسی کو اس سازش کا ذمہ دار قرار دینا تھا تو ان کو قرار دینا چاہیے تھا اور یقیناً یہ دونوں اصحاب احمدی نہیں تھے بلکہ سنی مسلک سے تعلق رکھتے تھے اور بہت سے مولوی صاحبان کو میت سے مدد لے کر جماعت احمدیہ کے خلاف مہم بھی چلاتے رہے ہیں۔