دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 164
164 یہاں ایک اور دلچسپ زاویہ سے اس معاملہ کا جائزہ لینا ضروری ہے۔مفتی محمود صاحب یہ منطق پیش کر رہے تھے کہ لارڈ ہارڈنگ وہ شخصیت تھے جن کی بنائی ہوئی سازش کے نتیجہ میں برطانیہ نے بغداد پر قبضہ کیا تھا اور چونکہ الفضل میں ان کی تعریف کی گئی تھی اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ احمدی بھی اس سازش میں شریک تھے۔یہاں یہ جائزہ لینا ضروری ہے کہ اور کس کس نے لارڈ ہارڈنگ کی تعریف کی تھی۔ہم قائد اعظم کی ایک تقریر کا حوالہ پیش کرتے ہیں۔Indeed the great and sympathetic Viceroy, Lord Hardinge whose memory will always be cherished by with affection by the people of this country for the first time recognized the legitimacy of this vital Indian aspiration۔(The Works of Quaide Azam Muhammad Ali Jinnah by Riaz Ahmad, Vol۔3, published by Quaide۔Azam University 1998,p 471) ترجمہ: یقینا عظیم اور ہمدرد وائسرائے لارڈ ہارڈنگ نے جن کو اس ملک کے لوگ ہمیشہ محبت سے یا درکھیں گے سب سے پہلے ہندوستانیوں کی اس خواہش کو تسلیم کیا۔الفضل میں لارڈ ہارڈنگ کی اس سے زیادہ تعریف نہیں کی گئی۔اگر یہ قابل اعتراض ہے تو معترض کا یہ اعتراض قائداعظم پر بھی ہوگا۔اس کا پس منظر یہ ہے کہ مارچ ۱۹۱۷ء میں برطانوی افواج نے بغداد پر قبضہ کیا۔اس سے قبل ترکی کی سلطنت عثمانیہ کے قبضہ میں تھا۔جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے کہ الزام یہ لگایا جا رہا تھا کہ یہ قبضہ عالم اسلام کے لیے اتنا بڑا سانحہ تھا لیکن احمدیوں نے اس پر خوشیاں منا کر مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے۔مفتی محمود صاحب نے یہ الزام لگایا کہ اس موقع پر قادیان میں چراغاں کیا گیا تھا۔یہ الزام بے بنیاد ہے۔اس موقع پر قادیان میں چراغاں نہیں ہوا تھا۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سارے قصے میں احمدیوں پر کیوں غصہ نکالا جارہا تھا۔پہلی جنگ عظیم میں جب برطانیہ اور اتحادی افواج سلطنت عثمانیہ کے خلاف برسر پرکار تھیں تو یہ سب کچھ عرب مسلمانوں کے تعاون