دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 162
162 دار الحرب نہیں کہلاتا۔پھر اگر وہ دراصل مسلمانوں کا ملک یا شہر ہوا قوام غیر نے اس تغلب سے تسلط پالیا ہو ( جیسا کہ ملک ہندوستان ہے ) تو جب تک اس میں ادائے شعائر اسلام کی آزادی رہے وہ بحکم حالت قدیم دار الا سلام کہلاتا ہے۔۔اس شہر یا ملک پر مسلمانوں کو چڑھائی کرنا اور اس کو جہاد مذہبی سمجھنا جائز نہیں ہے اور جو مسلمان اس ملک میں با امن رہتے ہوں ان کو اس ملک یا شہر سے ہجرت کرنا واجب نہیں۔۔(اشاعۃ السنہ نمبر ۹ جلد ۹ صفحه ۲۷۵) اس رسالہ میں بار بار برطانوی حکومت کی وفاداری کی تلقین نظر آتی ہے البتہ کہیں بھی عیسائی پادریوں کے اسلام پر حملوں کا جواب نہیں آتا۔خود مفتی محمود صاحب دیوبندی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔اب دیوبند کے فتاوی کا مجموعہ شائع ہو چکا ہے۔کہیں بھی انگریزوں کے خلاف جہاد کا کوئی فتوی نظر نہیں آتا۔اگر انگریزوں کے خلاف قتال دین کا اتنا ہی اہم جزو تھا تو جب انگریز یہاں پر قابض تھے تو اس وقت ان دیو بندی علماء نے ان کے خلاف جہاد کا فتویٰ کیوں نہیں دیا بلکہ جیسا کہ ہم گزشتہ کتاب میں ثبوت درج کر چکے ہیں دیو بند کے مہتم تو برطانوی حکومت کے لیے مخبری کا کام کیا کرتے تھے۔بغداد پر قبضہ اور لارڈ ہارڈنگ کا قصہ اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے کچھ حوالے پیش کر کے پہلی جنگ عظیم کے حوالے سے یہ الزام لگایا کہ جب پہلی جنگ عظیم کے دوران اتحادی افواج نے عراق پر قبضہ کیا اور سلطنت عثمانیہ کی افواج کو شکست ہوئی تو اس کے پیچھے بھی احمدیوں کی سازش ہی کا فر ماتھی۔ملاحظہ کیجیے کہ وہ اس کا ثبوت کیا پیش کرتے ہیں: جب انگریزوں نے عراق پر قبضہ کرنا چاہا اور اس غرض کے لئے لارڈ ہارڈنگ نے عراق کا دورہ کیا تو مشہور قادیانی اخبار الفضل نے لکھا یقیناً اس نیک دل افسر (لارڈ ہارڈ نگ ) کا عراق میں جانا عمدہ نتائج پیدا کرے گا۔ہم ان نتائج پر خوش ہیں کیونکہ خدا ملک گیری اور جہان بانی اسی کے سپرد کرتا ہے جو اس کی مخلوق کی بہتری چاہتا ہے اور اسی