دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 158
158 دے رہے ہیں؟ اس کتاب کا نام ” عجمی اسرائیل“ ہے جو کہ سلسلہ احمدیہ کے اشد مخالف شورش کاشمیری صاحب نے لکھی ہوئی ہے۔اس کتاب میں بغیر کسی ثبوت کے جماعت احمدیہ کے متعلق جھوٹ پر جھوٹ بولا گیا ہے۔ہم اس کا ثبوت پیش کرتے ہیں۔یہ الزام جس کا ذکر کیا جا رہا ہے وہ اس کتاب کے صفحہ نمبر ۱۸ سے شروع ہوتا ہے اور اس ذکر سے شروع ہوتا ہے کہ خود کیمبرج سے شائع ہونے والی ایک کتاب میں لکھا ہے کہ پادریوں کو اس بات کی شکایت ہے کہ افریقہ میں جماعت احمد یہ برطانیہ کی وزارت خارجہ کے سایہ تلے کام کرتی ہے اور اس کا ثبوت شورش کاشمیری صاحب کیا پیش کرتے ہیں؟ ملاحظہ کیجیے کس کتاب کا حوالہ دیا جارہا ہے۔وہ لکھتے ہیں ” اس وقت میرے سامنے وہ کتاب نہیں مصنف اور کتاب کا نام بھی یاد نہیں آ رہا۔پاکستان کے ایک بڑے افسر عاریتاً لے گئے۔پھر اپنی نظر بندی کے باعث میں ان سے یہ کتاب واپس نہیں لے سکا۔( مجھی اسرائیل بار دوئم صفحہ ۱۸) بہت خوب کیا ثبوت پیش کیا جا رہا ہے؟ کتاب کا نام کیا ہے؟ یہ تو معلوم نہیں۔کس نے لکھی؟ یاد نہیں رہا۔کتاب کہاں ہے؟ وہ تو اب میرے پاس نہیں۔شورش صاحب کی کتاب کے کئی ایڈیشن چھپ گئے لیکن یہ کتاب دستیاب نہ ہوئی نہ اس کا نام سامنے آیا۔ی تھی وہ معتبر کتاب جس کا حوالہ مفتی صاحب پیش کر رہے تھے۔بہر حال اس سے اگلے صفحہ پر جس کا حوالہ مفتی صاحب نے پڑھا تھا ، یہ الزام ایک دستاویز ” Arrival of Brirtish 66 Empire “ کے حوالہ سے سامنے آتا ہے اور شورش صاحب لکھتے ہیں کہ اس نا معلوم کتاب میں بیان کردہ راز کی گرہ اس دستاویز سے کھلتی ہے۔لیکن اس دستاویز کا حوالہ یا ثبوت کیا ہے؟ کیا یہ کہیں شائع ہوئی تھی ؟ یا اس کے مندرجات کسی کتاب یا جریدہ میں شائع ہوئے تھے؟ یایہ کسی لائبیر میری یا Achives میں موجود ہے۔نہ تو شورش صاحب نے بیان کیا اور نہ مفتی محمود صاحب نے اس راز سے پردہ اُٹھایا۔پھر جب سالہا سال کے بعد جماعت احمدیہ کے مخالفین پر دباؤ بڑھا کہ اس سنسنی خیز دستاویز کا انہیں کہاں سے علم ہوا تو پھر اپنی خفت مٹانے کے لیے روزنامہ نوائے وقت مورخہ ۷ ستمبر ۲۰۱۱ء میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں یہ انکشاف کیا گیا کہ یہ دستاویز