دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 157 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 157

157 وو مهدی سودانی مسلمانان ہند ( جن کے یہ مسلمات تسلیم کیے جاتے ہیں) کے نزدیک باغی ہے۔“ ( کارروائی صفحہ ۳۶۰) مفتی محمود صاحب سنسنی خیز نتیجہ بیان کرتے ہیں یہ تاریخی حقائق تو غلط تھے۔اس کے بعد مفتی محمود صاحب نے اپنے سنسنی خیز نتیجہ کی طرف رخ کیا۔انہوں نے کہا: ایک حواری نبی کی ضرورت ایک برطانوی دستاویز دی ارائیول آف برٹش ایمپائر ان انڈیا میں ہے اور بیرونی تمام شواہد بھی اس کی تائید کرتے ہیں کہ ۱۸۶۹ء میں انگلینڈ سے برطانوی مدبروں اور مسیحی رہنماؤں کا ایک وفد اس بات کا جائزہ لینے برصغیر آیا کہ مسلمانوں کو رام کرنے کی ترکیب اور برطانوی سلطنت سے وفاداری کے راستے نکالنے پر غور کیا جائے۔اس وفد نے ۱۸۷۰ء میں دور پورٹیں پیش کیں جن میں کہا گیا تھا کہ ہندوستانی مسلمانوں کی اکثریت اپنے روحانی رہنماؤں کی اندھا دھند پیرو کار ہے۔اگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا آدمی مل جائے جو اپاسٹالک (Apostolic Prophit حواری نبی ) ہونے کا دعوی کرے تو بہت سے لوگ اس کے گردا کٹھے ہو جائیں گے لیکن مسلمانوں میں ایسے کسی شخص کو ترغیب دینا مشکل نظر آتا ہے۔یہ مسئلہ حل ہو جائے تو پھر ایسے شخص کی نبوت کو حکومت کی سرپرستی میں بطریق احسن پروان چڑھایا جا سکتا ہے۔اب کہ ہم پورے ہندوستان پر قابض ہیں تو ہمیں ہندوستانی عوام اور مسلمان جمہور کی داخلی بے چینی اور باہمی انتشار کو ہوا دینے کے لئے اس قسم کے عمل کی ضرورت ہے۔“ ( بحوالہ عجمی اسرائیل صفحه ۱۹ The arrival of British empire in India) ( کارروائی ۲۰۲۱) مفتی محمود صاحب برطانوی حکومت کی تیار کی گئی ایک دستاویز کا ذکر کر رہے ہیں اور حوالہ کیا