دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 159
159 انڈیا آفس لائیبریری میں آج تک موجود ہے۔اس انکشاف سے سب محققین کو خوشی ہوئی کہ اس لائیبریری میں موجود ریکارڈ تک تو پبلک کو رسائی ہے اب یہ دستاویز شائع ہو جائے گی لیکن اس ضمن میں دو اہم پہلو جان کر سب کو حیرت ہوگی۔1۔قارئین کو یہ جان کے حیرت ہوگی کہ ۱۹۸۲ء میں انڈیا آفس لائیبر میری کوختم کر کے۔اس کا سارا مواد برٹش لائیبریری منتقل کر کے اس کے Oriental and India office کا حصہ بنا دیا گیا تھا۔گویا جب ۲۰۱۱ء میں یہ دعوی کیا جا رہا تھا کہ یہ دستاویز آج بھی انڈیا آفس لائبریری میں موجود ہے۔اس وقت انڈیا آفس لائیبریری ہی موجود نہیں تھی۔2۔بہر حال انڈیا آفس لائیبریری کا ریکارڈ تو موجود تھا۔اس لیے ہم نے متعلقہ حصہ سے رابطہ کر کے سوال کیا کہ کیا اس ریکارڈ میں The Arrival of British in India نام کی کوئی دستاویز موجود ہے؟ چونکہ اس شعبہ میں کیے جانے والے ہر استفسار یا درخواست کو ایک نمبر دیا جاتا ہے۔یہ بیان کر دینا ضروری ہے کہ ہمارے سوال کا نمبر ۷۰۰۷۴۷۵ تھا۔جس اہلکار نے اس کا جواب دیا ان کا نام Dorota Walker تھا۔ان کا جواب موصول ہوا کہ اس نام کی کوئی دستاویز ریکارڈ میں موجود نہیں ہے۔ہر کوئی متعلقہ شعبہ سے رابطہ کر کے ان حقائق کی تصدیق کر سکتا ہے۔ان حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ساری کہانی جھوٹ پر مشتمل تھی۔اس نام کی کسی دستاویز کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔اگر اب بھی کسی کا خیال ہے کہ اس کا وجود تھا ؟ تو اس کا فرض ہے کہ وہ اس کا ثبوت مہیا کرے۔حقیقت یہ ہے کہ جس دور میں مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنوا جماعت احمدیہ پر یہ بے سروپا الزام لگا رہے تھے کہ خدانخواستہ جماعت احمد یہ بڑی طاقتوں کی آلہ کار ہے اسی دور میں وہ خود بڑی طاقتوں سے رابطہ میں تھے۔بعد میں ایسی خفیہ کیبل منظر عام میں آئی کہ ۱۹۷۹ء میں مفتی محمود صاحب نے امریکی سفارتکار سے یہ سوال پوچھا کہ سعودی عرب اپنی دولت سے وسیع پیمانے پر افغانستان میں لڑنے والوں کی مدد کیوں نہیں کر سکتا۔(Sectarian War, by Khaled Ahmed, Oxford 2013, p98)