دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 156 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 156

156 ویسے مفتی محمود صاحب چند تاریخی حقائق کو بالکل نظر انداز کر رہے تھے یا عمداً بیان نہیں کرنا چاہتے تھے۔سوڈانی مدعی مہدویت کی زیادہ جنگیں انگریزوں کے خلاف تھیں ہی نہیں۔اس کی زیادہ ترمہم جوئی اور نفرت کا نشانہ مسلمان تھے۔اس نے خدیو مصر اور خلافت عثمانیہ کے خلاف مہم چلائی اور ان کے خلاف جنگیں کیں اور ہزاروں مسلمانوں کو قتل کر دیا۔یہ ٹھیک ہے کہ اس نے خرطوم پر حملہ کیا جہاں پر اس وقت برطانیہ کا تسلط تھا اور Gordon کو قتل کیا لیکن اس وقت زیادہ تر سوڈان اور خود مدعی مہدویت محمد احمد کا جزیرہ مسلمان حکمران خدیو مصر کی حکومت میں شامل تھا اور اس حکومت کے خلاف محمد احمد نے بغاوت کی تھی۔اس وقت جب یہ Gordon کا قتل کر چکا تھا تو بھی مغربی مصنفین یہی لکھ رہے تھے کہ بنیادی طور پر سوڈانی مہدی کی بغاوت سلطنت عثمانیہ اور خدیو مصر کے خلاف ہے عیسائیوں کے خلاف نہیں ہے۔سوڈانی مدعی مہدویت کی زندگی میں تو جماعت احمدیہ کا قیام عمل میں بھی نہیں آیا تھا۔اس کی مخالفت تو خود مسلمان ہی کر رہے تھے اور جامعہ ازہر کے علماء نے تو اس کے خلاف فتوی بھی دیا تھا۔(THE MAHDI PAST AND PRESENT, BY JAMES DARMESTER, GOOGLE BOOKS P64-82) اور تو اور وہ ہندوستان کے مسلمان علماء جو بعد میں جماعت احمدیہ کی مخالفت میں پیش پیش رہے تھے وہ بھی اس وقت سوڈانی مہدی کے خلاف لکھ رہے تھے۔چنانچہ مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی تحریر جو ان کے رسالے ” اشاعۃ السنہ کی جلدے کے شمارہ نمبر ۱۲ میں شائع ہوئی تھی وہ محمد احمد سوڈانی اور اس کی جنگوں کے بارے میں لکھتے ہیں۔وو یہ جنگ و فتوحات مسلمانان ہند کے اعتقاد و خیال میں بوجوہ چند اسلامی اصول و قوانین پر مبنی نہیں ہیں۔“ ( کارروائی صفحہ ۳۵۸) مہدی کا مقابلہ در حقیقت سلطان روم سے ہے۔“ ( کارروائی صفحہ ۳۵۹) اور پھر انہوں نے یہ لکھا کہ یہ سوڈانی مدعی در حقیقت کعبہ کو فتح کرنے کا قصد کر رہا ہے۔( کارروائی صفحه ۳۵۹)