دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 155 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 155

155 افغانستان تو انگریزوں سے وظیفہ لیتے تھے اور یہ عہد کرتے تھے کہ وہ برطانوی حکومت کے دشمنوں کے سرکاٹ کر رکھ دیں گے۔ظاہر ہے کہ ان کی ریاست میں ہندو سکھ اور عیسائی تو خاطر خواہ تعداد میں تو موجود نہیں تھے۔وہ مسلمانوں کا سر قلم کرنے کی ہی بات کر رہے ہوں گے۔ہم نے تاریخی حوالے درج کر دیئے ہیں۔ہر صاحب بصیرت اس حقیقت کو پر کھ سکتا ہے۔اس دور میں اور کہاں پر مسلمان برطانوی راج سے جہاد کر رہے تھے اس کی ایک اور مثال جو کہ مفتی محمود صاحب نے پیش کی وہ گزشتہ مثال سے بھی زیادہ دلچسپ تھی۔یہ مثال محمد احمد کی تھی جس نے ۱۸۸۱ء میں سوڈان میں مہدی ہونے کا دعویٰ کیا تھا اور ۱۸۸۵ء میں اس کا ٹائفس بیماری سے انتقال ہو گیا تھا۔مفتی محمود صاحب نے کہا: ”سوڈان میں انگریز قوم قدم جمانا چاہتی ہے تو ا۱۸۸ء میں مہدی سوڈانی اور ان کے درویش جہاد کا پھر یر ا بلند کر کے بالآخر انگریز جنرل گارڈن اور اس کی فوج کا خاتمہ کرتے ہیں۔“ (کارروائی صفحہ ۲۰۲۰) الله پہلی بات تو یہ ہے کہ محمد احمد نے ۱۸۸۱ء کے لگ بھگ سوڈان میں موعود مہدی ہونے کا اور رسول اللہ علہ کے خلیفہ ہونے کا دعویٰ کیا تھا۔اس نے ایسی وحی پانے کا دعوی بھی کیا تھا جو رسول اللہ ﷺ کی وساطت سے آتی تھی۔اگر مفتی محمود صاحب کے نزدیک اس کی جنگیں اسلامی جہاد تھیں تو اس کا لازمی مطلب یہ تھا کہ مفتی محمود صاحب کے نزدیک سوڈانی مہدی کے دعاوی درست تھے۔اگر ایسا تھا تو پھر وہ خود اپنی تقریر کے اکثر حصہ کی تردید کر رہے تھے کہ آنحضرت علی کے بعد کسی پر کسی قسم کی وحی نہیں اتر سکتی۔اگر مفتی محمود صاحب اور ان کے ہمنوا احباب کے نزدیک سوڈانی مہدی کے دعاوی درست نہیں تھے تو پھر وہ ایک مفتری تھا جس نے مہدی موعود ہونے کا جھوٹا دعویٰ کیا تھا اور پھر دعوے کے چند سال کے اندراندر خدا تعالیٰ کی گرفت میں آ گیا اور وَلَوْ تَقَوَّلَ کی سزا اسے ملی اور ٹائفس بیماری نے اس کا کام تمام کر دیا اور اگر اس نے وحی پانے کا جھوٹا دعوی کیا تھا تو پھر اس کی جنگوں کو جہاد کیسے قرار دیا جا سکتا ہے۔اور اس تقریر میں اس کی مثال دینے کا مقصد کیا تھا؟