دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 154 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 154

154 خدا جانے مفتی محمود صاحب بلکہ جملہ قابل ممبران اسمبلی نے تاریخ کا یہ علم کہاں سے کشید کیا تھا ؟ وہ ہر حقیقت کو الٹا بیان کر رہے تھے۔حقیقت یہ تھی کہ مذکورہ جنگ میں جو کہ ۱۸۷۹ء میں لڑی گئی افغان حکمرانوں کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا اور انہوں نے برطانوی حملہ آوروں (جن کی فوج میں بہت سے مسلمان شامل تھے ) کے آگے ہتھیار ڈال کر ان کی تمام شرائط مان لی تھیں۔مقامی حکمرانوں نے تخت سے دستبرداری کا اعلان کر دیا تھا۔پھر اس جنگ کے بعد انگریزوں نے امیر عبد الرحمن کو تخت پر بٹھایا تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوے کے وقت امیر عبدالرحمن افغانستان کے تخت پر موجود تھے۔انہوں نے ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی حضرت مولوی عبد الرحمٰن کو شہید کرایا تھا۔امیر عبدالرحمن برطانوی حکمرانوں سے بارہ لاکھ سالانہ کا وظیفہ پاتے تھے جس سے وہ اپنی فوجوں کو تنخواہ دیتے تھے اور انہوں نے اپنے ملک کی خارجہ پالیسی کا مختار برطانوی حکومت کو بنایا ہوا تھا۔ظاہر ہے کہ انگریز انہیں یہ وظیفہ اپنے خلاف جہاد کرنے کے لیے تو نہیں دیتے تھے اپنی وفاداری دکھانے کے لیے دیتے تھے۔(A history of Afghanistan, by Sir Frederick Pollock, internet archives p 159) انگریزوں سے جہاد کرنا تو ایک طرف رہا امیر عبد الرحمن انگریزوں کو اپنی وفاداری کا کس کس طرح یقین دلایا کرتے تھے اس کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے۔جماعت احمدیہ کے اشد مخالف مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب تحریر کرتے ہیں کہ جب وائسرائے ہند نے راولپنڈی میں دربار کیا تو افغانستان کے امیر عبدالرحمن بھی اظہار وفاداری کے لیے اس دربار میں حاضر ہوئے۔طرفین نے ایک دوسرے کو تحائف پیش کیے۔وائسرائے ہند نے جب امیر افغانستان کو تلوار کا تحفہ پیش کیا تو امیر عبدالرحمن جذ بہ وفاداری سے اتنے جوش میں آئے کہ کہنے لگے : میں اور میری اُلس ( قوم و اتباع ) اس تلوار کے ساتھ مخالفین گورنمنٹ کا سرکا ئیں گے۔انشاء اللہ تعالی (اشاعۃ السنہ نمبر ۱۲ جلد ۷ صفحه ۳۵) تو یہ تھا کامیاب جہاد جس کا ذکر مفتی محمود صاحب اس قدر جوش سے فرما رہے تھے۔امیر