دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 123 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 123

123 اصرار کر کے اس اہم کمیٹی کا صدر کیوں مقرر کیا گیا؟ ان کی قیادت میں کام کیوں شروع کیا گیا۔احمدی وکلاء کی خدمات سے استفادہ کیوں کیا گیا ؟ اگر ایسا تھا تو ان کو تو روز اول سے ہی اس کمیٹی میں شامل کرنے سے انکار کر دینا چاہیے تھا۔۱۹۳۵ء میں رونما ہونے والے واقعات ۱۹۳۵ء میں علامہ اقبال و نے حکمران انگریز قوم کو اور پنجاب کی برٹش حکومت بالخصوص گورنرسر ہر برٹ ایمرسن کو مخاطب کر کے جماعت احمدیہ کے خلاف انگریزی میں ایک مضمون لکھا۔اس مضمون میں جماعت احمدیہ کو مسلمانوں اور ملک کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔علامہ اقبال نے اس کے علاوہ بھی جماعت احمدیہ کی مخالفت میں چند مضامین لکھے اور ایک اخبار Statesman میں برٹش حکومت کو توجہ دلائی کہ وہ احمدیوں کو مسلمانوں سے علیحدہ کر دے۔تفصیلات اور ان مضامین اور خطوط کے متن کے لئے ملاحظہ کیجئے Traitors of Islam, An analysis of the Qadiani religion, by Allama Iqbal, published by Agha Shorish Kashmiri 1973) مولوی حضرات کے اس محضر نامہ کو جسے مفتی محمود صاحب نے تقریر کی صورت میں ممبران اسمبلی کے سامنے پڑھا تھا، جب شائع کیا گیا تھا علامہ اقبال کی اس تحریر کو ” مصور پاکستان کی فریاد کی سرخی کے تحت شائع کیا گیا تھا۔یہاں یہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ یہ فریاد کس کے روبرو کی گئی تھی اور کس کے سامنے یہ التجا کی جا رہی تھی کہ احمدی مسلمانوں کو دائرہ اسلام سے خارج کر دیا جائے۔خود علامہ اقبال کی تحریر میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ فریا د انگریزوں کے سامنے یعنی حکمران قوم کے سامنے کی جا رہی تھی کہ اس جماعت کو دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے۔جیسا کہ علامہ اقبال لکھتے ہیں۔I intended to adress an open letter to the British people explaining the social and political implications of the issue۔ترجمہ: میرا ارادہ تھا کہ برطانوی لوگوں کو مخاطب کر کے ایک کھلا خط لکھوں تا کہ اس مسئلہ