دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 122 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 122

122 احمدیہ کو صدر اور ایک اور احمدی عبدالرحیم در دصاحب کو سیکر یٹری منتخب کیا گیا۔خرم محمود صاحب لکھتے ہیں کہ علامہ اقبال کی تجویز پر ہی حضرت امام جماعت احمدیہ کو اس کمیٹی کا صدر بنایا گیا تھا۔(صفحہ ۹۱) پھر اس کتاب میں لکھا ہے کہ جب اس کمیٹی نے کام شروع کیا اور ہندوستان بھر میں کشمیر کے ڈوگرہ راجہ کے خلاف جلسے شروع ہوئے تو ہندو پریس بالخصوص پرتاپ اور ملاپ نے اسے ہندوراج کے لیے خطرہ قرار دیا۔(صفحہ ۹۱) اور مجلس احرار جو کہ جماعت احمدیہ کے خلاف سرگرم تھی اس نے کانگرس کی لیڈرشپ سے رابطہ کیا۔اس پر مولانا ابوالکلام آزاد جو کہ نمایاں کانگرسی لیڈر تھے نے انہیں ہدایت دی کہ وہ کشمیر میں کام شروع کریں۔(صفحہ ۹۴ )۔جب مجلس احرار کے کرتا دھرتا کشمیر پہنچے تو انہیں ڈوگرہ راجہ نے اپنے سرکاری مہمان کی حیثیت سے ٹھرایا اور کشمیر میں افواہیں گردش کرنے لگیں کہ انہوں راجہ کے خلاف مہم کو ناکام بنانے کے لیے راجہ سے رشوت لی ہے۔(صفحہ ۹۵ ۹۶ )۔اس مہم کے ساتھ ہی احرار نے علامہ اقبال سے رابطہ کیا کہ وہ احمدیوں کی قیادت میں کام کر رہے ہیں جس کا مسلمانوں پر برا اثر پڑ رہا ہے۔اور انجام یہ ہوا کہ مئی ۱۹۳۳ء میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے اس کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور علامہ اقبال کو اس کا صدر منتخب کیا گیا اور ۴۳ دن بعد علامہ اقبال نے بھی اس کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا اور کمیٹی کو ختم کر دیا گیا۔(صفحہ ۱۰۸،۱۰۴) علامہ اقبال نے اپنے استعفیٰ کے خط میں احمدی ممبران کمیٹی پر ان سے عدم تعاون کا الزام لگایا اور یہ کہا کہ وہ ان کی بجائے اپنی قیادت کی زیادہ پیروی کر رہے ہیں لیکن یہاں ایک سوال ذہن میں آتا ہے کہ احمدی وکلاء کی تعداد تو باقی وکلاء کے مقابلہ میں آٹے میں نمک سے زیادہ نہیں تھی۔اگر احمدی و کلاء عدم تعاون کا مظاہرہ کر رہے تھے تو صدر کمیٹی کو مکمل اختیار تھا کہ وہ ان کو برطرف کر دیتے اور ہندوستان بھر میں مسلمان وکلاء کی تو کسی طرح بھی کوئی کمی نہیں تھی ان سے استفادہ کیا جاسکتا تھا۔صرف جذ بہ خدمت ہی کافی تھا۔اگر جماعت احمد یہ غداروں کی جماعت تھی اور غیر مسلم جماعت تھی اور اسلام اور ملک کے لیے خطرہ تھی تو اس اہم موقع پر جب کہ لاکھوں مسلمانوں کے حقوق کا سوال تھا تو امام جماعت احمدیہ کو