دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 121 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 121

121 ۱۹۳۵ء سے قبل اس جماعت سے اچھے نتائج کی امید تھی لیکن ایک زندہ شخص ہونے کی حیثیت سے انہیں اپنی رائے بدلنے کا حق تھا اور وہ ہمیشہ سے جماعت احمدیہ سے عقائد کا اختلاف رکھتے تھے۔ہمیں ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب کی اس بات سے اتفاق ہے کہ ہر شخص کو اپنی رائے بدلنے کا حق حاصل ہے لیکن اس رائے کی تبدیلی کی کوئی بھی وجہ ہو اس کی وجہ حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کے دعاوی اور جماعت احمدیہ کے بنیادی عقائد نہیں ہو سکتے کیونکہ ۱۹۰۸ء میں حضرت بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات ہو چکی تھی اور آپ کے دعاوی مکمل طور پر دنیا کے سامنے آچکے تھے۔اس دور میں یعنی ۱۹۳۵ء تک علامہ اقبال کی جانب سے جماعت احمدیہ کے بارے میں ان خیالات کا اظہار ہوتا رہا۔وہ جماعت احمدیہ کے خیالات سے کس قدر متفق تھے اور کس قدر اختلاف رکھتے تھے یا شدید اختلاف رکھتے تھے اس بارے میں ان کے بیٹے مکرم جاوید اقبال صاحب اور بھتیجے شیخ اعجاز احمد صاحب نے مختلف نظریات کا اظہار کیا ہے لیکن اس بحث سے قطع نظر مندرجہ بالا حقائق سے مکرم ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے بھی انکار نہیں کیا اور انہیں اپنی تصنیف میں درج فرمایا ہے۔آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام اس پس منظر میں کشمیر کے مظلوم مسلمانوں کی مدد کے لئے آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا قیام عمل میں آیا۔اس تاریخی واقعات پر بہت سی مختلف آراء سامنے آتی رہی ہیں اس لیے ہم اس مصنف کی کتاب کا حوالہ دیں گے جس کا جماعت احمدیہ سے کوئی تعلق نہیں بلکہ اس کتاب میں جگہ جگہ جماعت احمدیہ کی مخالفت میں بہت کچھ لکھا گیا ہے تا کہ کوئی اشتباہ نہ رہے کہ ان بنیادی حقائق کو جماعت احمدیہ کے شدید مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں۔اس کتاب کا نام Iqbal and the 1938 - 1926 politics of Punjab ہے اور اس کے مصنف خرم محمود صاحب ہیں۔مصنف نے تحقیق کر کے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ جب ۲۶/ جولائی ۱۹۳۱ء کو شملہ میں آل انڈیا کشمیر کمیٹی کا پہلا اجلاس ہوا تو اس میں دوسرے احباب کے علاوہ علامہ اقبال اور امام جماعت احمد یہ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب بھی شامل تھے۔اس میں حضرت امام جماعت