دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 120 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 120

120 ۱۹۳۵ء سے پہلے کا دور اس حوالے سے علامہ اقبال کی زندگی کو دو ادوار میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ایک دور تو ۱۹۳۵ء تک کا ہے۔اس دور کے دوران علامہ اقبال کی طرف سے جماعت احمدیہ کے متعلق کن خیالات کا اظہار کیا گیا اس کا اندازہ ان مثالوں سے لگایا جا سکتا ہے۔علامہ اقبال کے صاحبزادے جاویدا قبال صاحب نے اقبال کی سوانح حیات زندہ رود میں یہ مثالیں تحریر کی ہیں۔جاوید ا قبال نے ان میں سے کچھ مثالیں ان کے چچازاد بھائی شیخ اعجاز احمد صاحب کے مہیا کیے نوٹ سے بھی لی ہیں جن کی تردید جاوید ا قبال صاحب نے نہیں کی بلکہ ان کی توجیہہ پیش کرنے کی کوشش کی ہے۔1۔1900ء میں علامہ اقبال نے بانی سلسلہ احمدیہ کے متعلق فرمایا کہ وہ ہندوستان کے مسلمانوں میں موجودہ دور کے غالباً سب سے عظیم دینی مفکر ہیں۔2۔1910ء میں انہوں نے علیگڑھ کالج میں ایک لیکچر دیا اور اس میں فرمایا کہ اس دور میں فرقہ قادیانی اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ ہے۔3۔۱۹۳۶ء میں تحریر کیا کہ اشاعت اسلام م کا جوش جو جماعت احمدیہ کے افراد میں پایا جاتا ہے قابل قدر ہے۔زنده رود مصنفہ جاوید اقبال صاحب ناشر سنگ میل پبلیکیشنز لاہور ۲۰۰۸ صفحه ۲۰۸،۶۳۸) 4 ۱۹۱۳ء میں علامہ اقبال کو شبہ ہوا کہ ان کی منکوحہ سردار بیگم صاحبہ سے ان کا نکاح قائم ہے کہ نہیں تو انہوں نے اپنے دوست مرزا جلال الدین صاحب کو فتوی دریافت کرنے کے لیے قادیان بھیجوایا جنہوں نے اس بابت بانی سلسلہ احمدیہ کے پہلے خلیفہ حضرت مولانا نورالدین صاحب سے اس بابت فتوی دریافت کیا اور علامہ اقبال نے اس فتویٰ پر عمل بھی کیا۔5۔علامہ اقبال نے پہلی شادی سے اپنے بڑے بیٹے آفتاب اقبال صاحب کو پڑھنے کے لیے قادیان کے سکول میں بھجوایا۔( زنده رود مصنفہ جاوید اقبال صاحب ناشر سنگ میل پبلیکیشنز لاہور ۲۰۰۸ صفحہ ۶۳۱،۶۳۰) ان جیسی باتوں کو درج کر کے مکرم ڈاکٹر جاوید اقبال صاحب نے یہ جواز پیش کیا ہے کہ اقبال کو