دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 111 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 111

111 انہوں نے مسلم کی یہ تعریف بیان کی وہ شخص مسلم ہے جو (۱) قرآن پر ایمان رکھتا ہو (۲) رسول اللہ ﷺ کے ارشادات پر ایمان رکھتا ہو۔ہر شخص جوان دوشرطوں کو پورا کرتا ہے مسلم کہلانے کا حق دار ہے اور اس کے لئے اس سے زیادہ عقیدے اور عمل کی ضرورت نہیں۔“ رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء بار اول اردوصفحه ۲۳۱ تا ۲۳۶) اس وقت مختلف علماء نے ” مسلمان کی جو تعریفیں پیش کیں ان کی چند مثالیں درج کی گئی ہیں۔باقی تفصیلات تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں ملاحظہ کی جاسکتی ہیں۔اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے تحقیقاتی عدالت کی رپورٹ میں لکھا ہے۔ان متعدد تعریفوں کی جو علماء نے پیش کی ہیں۔پیش نظر رکھ کر کیا ہماری طرف سے کسی تبصرہ کی ضرورت ہے؟ بجز اس کے کہ دین کے کوئی دو عالم بھی اس بنیادی امر پر متفق نہیں ہیں۔اگر ہم اپنی طرف سے مسلم کی کوئی تعریف کر دیں جیسے ہر عالم دین نے کی ہے اور وہ تعریف ان تعریفوں سے مختلف ہو جو دوسروں نے پیش کی ہیں تو ہم کو متفقہ طور پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیا جائے گا اور اگر ہم علماء میں سے کسی ایک کی تعریف کو اختیار کر لیں تو ہم اس عالم کے نزدیک تو مسلمان رہیں گے لیکن دوسرے تمام علماء کی تعریف کی رو سے کافر ہو جائیں گے۔“ ( رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء باراول اردوصفحه ۲۳۲ تا ۲۳۶) اس صورت حال پر تبصرہ کرتے ہوئے مخالفین سلسلہ میں سے ایک نے یہ عذر پیش کیا اگر وہ علماء دین جن سے یہ سوال کیا گیا۔عدالت کے سامنے مسلم کی جامع و مانع تعریف پیش کرنے سے قاصر رہ گئے تھے تو اس کی وجہ یہ تھی کہ انہیں اچانک اس سوال کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں معلوم نہ ہو سکا کہ عدالت میں ان سے مسلم کی جامع و مانع تعریف حاصل کرنا چاہتی ہے جسے اسلامی مملکت کے دستور اساسی میں شامل کیا جا سکے۔“ ( محاسبه یعنی عدالت تحقیقات فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء کی رپورٹ پر ایک جامع اور بلیغ تبصرہ صفحہ ۳۸)