دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ

by Other Authors

Page 110 of 222

دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 110

110 یہ تعریف مندرجہ بالا تعریف سے بالکل مختلف تھی۔وہ تعریف یہ تھی جو شخص ضروریات دین پر ایمان رکھتا ہو وہ مومن ہے اور ہر مومن مسلمان کہلانے کا حق دار ہے۔“ جب بدایونی صاحب سے سوال ہوا کہ ضروریات دین کون کون سی ہیں؟ تو انہوں نے کہا: ” جو شخص پنج ارکان اسلام پر اور ہمارے رسول پاک ﷺ پر ایمان رکھتا ہے۔وہ ضروریات دین کو پورا کرتا ہے۔“ بدایونی صاحب ایک طویل عرصہ اپنے زعم میں جماعت احمدیہ کو غیر مسلم قرار دینے کی مہم کے ایک اہم لیڈر رہے تھے۔اور انہوں نے کبھی اس بات پر غور ہی نہیں کیا تھا کہ اگر کوئی شخص ان کے خیال میں آنحضرت ﷺ کو آخری نبی نہیں مانتا تو خود ان کی تعریف کی روشنی میں اسے غیر مسلم قرار نہیں دیا جا سکتا تھا۔جب یہ سوال جماعت اسلامی کے قائد مودودی صاحب سے کیا گیا تو ان کی طرف سے مسلم کی یہ تعریف دی گئی وہ شخص مسلم ہے جو (۱) تو حید پر (۲) تمام انبیاء پر (۳) تمام الہامی کتابوں پر (۴) ملائکہ پر (۵) یوم الآخرۃ پر ایمان رکھتا ہو جب ان سے دریافت کیا گیا کہ کیا محض ان چیزوں کے زبانی اقرار سے کسی شخص کو مسلم مملکت میں مسلمان کہلانے کا حق حاصل ہو جائے گا تو ان کا جواب تھا ” جی ہاں“۔یہ بات قابل غور ہے کہ خود جماعت اسلامی اور ان کے بانی کے نزدیک مسلمان کہلانے کے لیے آنحضرت ﷺ کو آخری نبی ماننا ضروری نہیں تھا اور اگر کوئی شخص محض ان پانچ شرائط کا زبانی اقرار بھی کرے تو ایک مسلم مملکت میں اسے مسلمان کہلانے کا حق حاصل ہو جاتا ہے۔اس طرح انہوں نے ۱۹۵۳ء میں جو تحریک چلائی اور ۱۹۷۴ء میں جماعت احمدیہ کے خلاف جو قرار داد پیش کی وہ خود ان کو اصولوں کے تحت غاط تھی۔اسی طرح جب صدر جمیعت العلماء اسلام مغربی پاکستان احمد علی صاحب سے یہ سوال کیا گیا تو