دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 112
112 یہ ایک دلچسپ تبصرہ ہے۔کئی سالوں سے یہ احباب مہم چلا رہے تھے کہ فلاں فلاں گروہ کو غیر مسلم قرار دینا چاہیے۔جماعت احمدیہ کے خلاف تو مولوی صاحبان کے بہت سے گروہ مل کر یہ ہم چلا رہے تھے اور اب تک انہیں یہ بھی خیال نہیں آیا تھا کہ مسلمان کی جامع و مانع تعریف ہی طے کر لیں۔اس کے بغیر ہی وہ طویل عرصہ سے مسلمانوں کو غیر مسلم قرار دینے کے لیے کمر بستہ تھے۔جہاں تک قانونی اغراض کے لیے مثلاً مردم شماری کے لیے کسی کو بھی مسلمان تسلیم کرنے کا تعلق ہے تو رسول اللہ ﷺ کا یہ اسوہ ہماری راہنمائی کرتا ہے۔صحیح بخاری کی کتاب الجهاد والسیر کے باب صلى الله كتابة الامام الناس میں حضرت حذیفہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ تمام مسلمانوں کے نام لکھے جائیں اور اس غرض کے لئے یہ معیار مقرر فرمایا: مــن تـلـفـظ الاسلام من الناس یعنی جو اسلام کا اقرار کرتا ہے اس کا نام مسلمانوں کی فہرست میں داخل کر کے آنحضرت علی کی خدمت میں پیش کئے جائیں۔۱۹۵۳ء میں تو یہ سب کچھ ہوا۔پھر جب ۱۹۸۵ء میں آئین میں مسلمان کی تعریف پیش کی گئی تو وہ ان تعریفوں سے بالکل مختلف تھی جو کہ مختلف علماء کی طرف سے ۱۹۵۳ء میں پیش کی گئی تھیں۔آئین کے آرٹیکل ۲۶۰ میں شامل یہ تعریف درج ذیل ہے۔means a person who believes in the unity and Muslim oneness of Almighty Allah, in the absolute and unqualified finality of the Prophethood of Muhammad (peace be upon him), the last of the Prophets and does not believe in, or recognize as a prophet or religious reformer, any person who claimed or claims to be a prophet, in any sense of the word or of any description whatsoever, after Muhammad (peace be upon him); اور اس تعریف پر مہر تصدیق ثبت کرنے والوں میں وہ ممبران بھی تھے جو کہ ان سیاسی