دوسری آئینی ترمیم ۔ خصوصی کمیٹی میں مفتی محمود کی تقریر پر تبصرہ — Page 109
109 اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے اکثر ممتاز علماء سے یہ سوال کیا ہے کہ وہ مسلم کی تعریف کریں۔اس میں نکتہ یہ ہے کہ اگر مختلف فرقوں کے علماء احمدیوں کو کافر سمجھتے ہیں تو ان کے ذہن میں نہ صرف اس فیصلہ کی وجوہ بالکل روشن ہوں گی بلکہ وہ مسلم کی تعریف بھی قطعی طور پر کرسکیں گے کیونکہ اگر کوئی شخص یہ دعوی کرتا ہے کہ فلاں شخص یا جماعت دائرہ اسلام سے خارج ہے تو اس سے لازم آتا ہے کہ دعویٰ کرنے والے کے ذہن میں اس امر کا واضح تصور موجود ہو کہ مسلم کس کو کہتے ہیں۔تحقیقات کے اس حصے کا نتیجہ بالکل اطمینان بخش نہیں نکلا اور اگر ایسے سادہ معاملے کے متعلق بھی ہمارے علماء کے دماغوں میں اس قدر ژولیدگی موجود ہے تو آسانی سے تصور کیا جاسکتا ہے کہ زیادہ پیچیدہ معاملات کے متعلق ان کے اختلافات کا کیا حال ہوگا۔ذیل میں ہم مسلم کی تعریف ہر عالم کے اپنے الفاظ میں درج کرتے ہیں۔اس تعریف کا مطالبہ کرنے سے پہلے ہر گواہ کو سمجھا دیا گیا تھا کہ آپ وہ قلیل سے قلیل شرائط بیان کیجیے جن کی تعمیل سے کسی شخص کو مسلم کہلانے کا حق حاصل ہو جاتا ہے اور یہ تعریف اس اصول پر مبنی ہونی چاہئے جس کے مطابق گرایمر میں کسی اصطلاح کی تعریف کی جاتی ہے۔“ ( رپورٹ تحقیقاتی عدالت فسادات پنجاب ۱۹۵۳ء باراول اردو صفحه ۲۳۲٬۲۳۱) پھر اس رپورٹ میں کچھ علماء کی بیان کردہ وہ تعریفیں درج کی گئیں اور یہ تعریفیں ایک دوسرے سے بالکل مختلف تھیں۔ان کی مثالیں درج کی جاتی ہیں: صدر جمیعت العلماء پاکستان ابوالحسنات محمد احمد قادری صاحب نے مسلم کی یہ تعریف بیان کی اول۔وہ تو حید الہی پر ایمان رکھتا ہو۔صلى الله دوم۔وہ پیغمبر اسلام ﷺ اور تمام انبیاء سابقین کو خدا کا سچا نبی مانتا ہو۔سوم۔اس کا ایمان ہو کہ پیغمبر اسلام علی انبیاء میں آخری نبی ہیں۔( خاتم النبیین ) الله چہارم۔اس کا ایمان ہو کہ قرآن کو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ الہام پیغمبر اسلام ﷺ پر نازل کیا۔پنجم۔وہ پیغمبر اسلام ﷺ کی ہدایت کے واجب الا طاعت ہونے پر ایمان رکھتا ہو۔ششم۔وہ قیامت پر ایمان رکھتا ہو۔“ جب اسی جماعت کے ایک اور عالم عبد الحامد بدایونی صاحب سے یہ سوال کیا تو ان کی بیان کردہ