مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 94
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 94 نصیحت کرتے وقت حضرت مسیح علیہ السلام یا حضرت اماں جان کا حوالہ ضرور دیتیں۔ایک دن فرمانے لگیں تم لوگ ماں باپ سے روٹھتے ہو تو منائے ” سے نہیں ملتے ، میں بھی روٹھا کرتی تھی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک بار منانے سے مان جاتی“ فرمانے لگیں۔’ایک بار ( بچپن میں) حضرت ائتماں جان سے ناراض ہو گئی۔کیونکہ میں ان سے بار بار کہتی تھی مجھے پر اٹھا پکوا دیں اور اس کے او پر ملائی اور بورا ( پسی ہوئی چینی ڈال کے مجھے دیں۔حضرت اماں جان اس وقت انگیٹھی پر حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا کھانا اپنے سامنے خادمہ سے پکوا رہی تھیں کہنے لگیں:۔”صبر کرو، اس وقت نہ چولہا فارغ ہے نہ مائی، تمہارے ابا کا کھانا پک جائے۔تو پھر تمہارے لئے پر اٹھا ہوا دوں گی۔“ میں ناراض ہو کر اندر جا کر منہ سر لپیٹ کر لیٹ گئی ، تھوڑی ہی دیر بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام تشریف لائے اور مجھے اس طرح بے وقت لیٹا دیکھ کر حضرت اماں جان سے پوچھا کہ مبارکہ کو کیا ہوا ہے۔حضرت اماں جان نے وجہ بتائی تو فوراً ہانڈی اُتر وائی اپنے سامنے پراٹھا پکوایا ، او پر ملائی اور بورا ڈالے اور ٹرے میں رکھ کر میرے پاس لائے اور فرمایا ”مبارکہ ! اٹھو دیکھو تمہارے لئے کھانا لے آیا ہوں میں فوراً اُٹھ