مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 93
حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 93 33 عزیز سے یکساں محبت کرتیں، کبھی سگے سوتیلے کا فرق نہ کیا، جب بیاہی گئی ہیں تو چھوٹی سی عمر ہی تھی ، صرف 12 سال سے کچھ اوپر اور سسرال میں بری کے طور پر تین اپنے سے بڑے بچے ملے، لیکن آپ نے ہمیشہ ان کو پہلے دن سے شفقت و محبت دی،ان سے دوستی رکھی، اس کی گواہی نواب صاحب کی بڑی بیٹی بو زینب ( جو آپ کی بھا بھی بھی بنیں) نے دی۔اپنی والدہ کو بیگم صاحبہ کہتی تھیں ، کہا کرتی تھیں کہ :۔بیگم صاحبہ بہت محبت کرنے والی تھیں ، میں کافی عرصہ بیماری کی وجہ سے ان کے پاس رہی اور مجھے آج تک یاد نہیں کہ کوئی ایسی بات کی ہو جس سے دل دُکھے بلکہ ہمیشہ ماں کی طرح خیال رکھا۔“ اسی طرح اپنے تمام سسرالی عزیزوں سے محبت کا سلوک رکھا۔آپ کے دیور نواب ذولفقار علی خان کی اولاد ہمیشہ بے حد احترام اور پیار سے آپ کو یاد کرتی ہے بلکہ ان کی دونوں بیٹیاں تو اپنی تائی جی کو اپنا دوست مانتیں، یکی سہیلیاں تھیں، اپنا ہر دکھ سکھ ، راز داری ، تائی جی سے ہوتی ، دیگر سسرالی عزیز بھی آپ کی صفات کی وجہ سے آپ کا احترام کرتے اور ذاتی مسائل میں آپ سے ہی مشورے کرتے ، حالانکہ عقیدے کی وجہ سے ایک دوری بھی تھی۔آپ کا نصیحت کا انداز بھی سب سے انوکھا سب سے پیارا تھا۔