مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 90
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 90 تھا۔اور کافی عرصے سے آپ اس میں مقیم تھے۔اور وہ تقریب دار لمسیح کا ہی حصہ ہے۔کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی ڈیوڑھی کی ہی زمین پر ہے، اور بیچ میں ہی راستہ بھی ہے، مجھے خود حضرت والدہ صاحبہ ساتھ لے جا کر ان ن کے گھر چھوڑ آئی تھیں اور دروازے تک حضرت خلیفہ اول بھی آئے تھے۔اس بارہ میں نواب محمد علی خان صاحب اپنی ڈائری میں لکھتے ہیں۔رخصتانه نهایت سیدھی سادھی طرز سے ہوا مبارکہ بیگم صاحبہ کے آنے سے پہلے مجھ کو حضرت اماں جان نے فہرست جہیز بھیج دی اور دو بجے حضرت اماں جان خود لے کر مبارکہ بیگم صاحبہ کو میرے مکان پر ان سیٹرھیوں کے راستے جو میرے مکان اور حضرت اقدس کے مکان کو ملحق کرتی تھیں تشریف لائیں۔میں چونکہ مسجد میں تھا اس لئے ان کو بہت انتظار کرنا پڑا۔اور جب بعد نماز آیا تو مجھ کو بلا کر مبارکہ بیگم صاحبہ کو بایں الفاظ نہایت بھرائی آواز سے کہا کہ:۔میں اپنی یتیم بیٹی کو تمہارے سپرد کرتی ہوں۔“ اس کے بعد ان کا دل بھر آیا اور فور اسلام علیک کر کے تشریف لے گئیں۔نواب صاحب خدا تعالی کی اس نعمت کے ملنے پر اللہ تعالی کے بہت شکر گزار ہوتے۔اپنی ڈائری میں ان کی تعریف میں لکھا۔” میں نے