مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 89 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 89

حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 89 بنانی بھی سیکھیں۔پھر رنگوں کا بھی شوق تھا، ایک کتاب بھی آپ کے پاس ہوتی تھی، جس میں مختلف رنگ بنانے کی ترکیبیں تھیں ،خو د رنگ بنا کر دوپٹے وغیرہ رنگواتی تھیں ، اس زمانہ میں گرمیوں میں عمل کے دوپٹے کرتے اور لٹھے کے پاجامے ہوتے تھے۔جن کو گھر میں ہی رنگا جاتا ، دھنک اور گوٹے کے کام سے سجایا جاتا ، گھر کے سب انتظامی امور میں تاک تھیں ، خاص طور پر اپنے میاں کی وفات کے بعد تو سب کاموں کا بوجھ آپ پر آن پڑا، لیکن آپ نے ہر اچھے برے حالات میں انتہائی خوش اسلوبی سے گھر چلایا۔آپ کا نکاح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں ہوا۔آپ علیہ السلام نے یہ رشتہ خود منظور کیا تھا۔بروز پیر 17 فروری 1908ء کو مسجد اقصیٰ میں نواب محمد علی خان صاحب (رئیس مالیر کوٹلہ ) سے 56 ہزار روپے مہر پر حضرت حافظ حکیم نور الدین صاحب نے آپ کا نکاح پڑھایا۔حضور علیہ السلام بھی وہاں موجود تھے۔پھر آپ کے وصال کے بعد 1909 میں آپ کا رخصتا نہ ہوا۔اس بارہ میں نواب مبار کہ بیگم صاحبہ فرماتی ہیں۔”میرا رخصتانہ 14 مارچ 1909ء کو حضرت والدہ صاحبہ مکرمہ کے ہاتھوں اور حضرت خلیفہ اول کی دعا کے ساتھ نہایت سادگی سے عمل میں آیا۔اب میاں (یعنی نواب صاحب) کا اندرون شہر والا مکان بن چکا