مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 4 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 4

حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 4 پہنچے تو اپنے دل کو بھی ہمیشہ پچھتاوار ہے گا اور دوسرے کو تکلیف“ یہ عمر بھر کو سبق ملا اور آج تک یاد ہے۔اس بات سے بھی آپ نے روکا ہوا تھا کہ کبھی ڈھیلا ، پھر کسی کی جانب نہ پھینکو۔کسی کے بے جگہ لگ جائے کسی کی آنکھ ہی پھوٹ جائے ،سر پھٹ جائے۔اس کا ہمیشہ خیال رہتا تھا اور ہمیشہ بچوں کو اس امر پر روکاٹو کا ہے۔اپنے مبارک احمد نے ایک دفعہ مجھے کہا۔آپا آکر میرے ساتھ کھیلو! نہ پڑھو!“ اس وقت میں اور صالحہ بیگم مرحومہ جو بعد میں چھوٹی ممانی جان بنیں ہم 66 پڑھ رہے تھے۔میں نے کہا ” بھی نہیں۔“ مبارک نے ایک ڈھیلا کھینچ مارا، حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس وقت حجرہ میں تشریف رکھتے تھے۔میں نے مبارک کے ڈرانے کو کہا۔بتاتی ہوں ابا کو ! میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو کہا:۔وو دیکھیں مبارک نے ڈھیلا اٹھا کر ہماری طرف مارا ہے۔“ آپ علیہ اسلام نے فرمایا۔اسکولا ؤ یہاں میرے پاس‘ میں نے آکر کہا۔” چلو مبارک آتا بلا رہے ہیں۔اس نے کہا : اچھا مگر آپا تم