مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 63
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 63 بیمار ہو گئی تھیں۔1941ء 42 ء میں نے ان کو بغرض علاج دہلی بھیجا اور تمام خرچ اٹھایا۔علاج تو لمبا چلا منصورہ بیگم کو بہت احساس تھا کہ ماموں جان پر بہت بوجھ میری وجہ سے پڑ رہا ہے انہوں نے لکھا کہ آپ پر اتنا خرچ میری وجہ سے پڑ رہا ہے۔مجھے بہت شرم آتی ہے تو ان کو لکھا تھا کہ تمہاری جان سے زیادہ عزیز مجھے روپیہ نہیں ہے، تم ہزاروں کا کھتی ہو، اگر ایک لاکھ بھی علاج پر خرچ ہو جائے ، تمہاری صحت کی خاطر ، تو مجھے پرواہ نہیں۔(42) ایک شفیق مگر دور اندیش باپ تھے لڑکوں پر کڑی نظر رکھتے (لڑکیوں پر بظاہر زیاد و نرمی ) قدر تا لڑکوں کے اپنی آرزو کے مطابق خادم دین بننے اور خدمت اسلام کے لئے کمر بستہ سپاہی بنا دینے کی آپ کو دلی خواہش تھی۔کسی لڑکے کے کام کی تعریف کسی سے بھی سنتے تو خوش ہو جاتے۔جب عزیزی ناصر احمد خلیفہ اسیح الثالث کو 1953ء میں قید کیا گیا ہم رتن باغ میں تھے۔میں دیکھ رہی تھی عزیزی ناصر احمد کوٹھی کے رُخ بیٹھے تھے ان کا چہرہ صاف نظر آ رہا تھا۔ایک عجیب شان ایک عجیب نور ایک خاص وقار چہرہ پر برس رہا تھا، یہ نہیں معلوم ہوتا تھا کہ یہ ناصر احمد ہی ہیں۔اس وقت بجائے قیدی ہونے کے معلوم ہوتا تھا کہ ایک فاتح بادشاہ فتح کے بعد بڑی شان سے رواں ہے۔وہ چہرہ وہ نقشہ وہ خاص نور وہ شان دیکھ کر مجھے یقین ہو گیا تھا کہ یہ محض قلبی اثر نہیں (یعنی خوشی سے ہر