مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 40
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ تیاری کی وجہ سے اٹھنا نہ پڑا۔40 ایک بات حضرت اماں جان کی تو حضرت منجھلے بھائی صاحب لکھ چکے ہیں آپ نے فرمایا تھا اس دعاؤں کے وقت کہ 66 اے خدا! اس نے ہمیں چھوڑ دیا مگر تو کبھی ہم کو نہ چھوڑ۔“ اور ایک بات اور جو میں نے سنی اور یاد رہی وہ یہ ہے کہ آپ کے جسدِ مبارک کے پاس بیٹھے ہوئے میں سامنے پٹی کے پاس زمین پر بیٹھی تھی بڑے درد سے بڑے جوش سے آپ نے فرمایا تھا کہ :۔"میرے بچو یہ نہ سمجھنا بھی کہ ہمارے باپ نے ہمارے لئے کچھ نہیں چھوڑا۔وہ تمہارے لئے بہت بڑا خزانہ دعاؤں کا آسمان پر چھوڑ گیا 66 ہے جو ہمیشہ وقتاً فوقتاً تم کو ملتا رہے گا۔“ یہ ٹھیک الفاظ حضرت اماں جان کے ہیں جو مجھے یادر ہے بالکل ٹھیک۔پھر تیاری ، سامان کا باندھنا، چلنا، قافلہ سالار راہ میں چھوڑ کر اپنے سب سے پیارے کے پاس جا چکا تھا۔اس کے یتیم ، اس کی مقدس و مبارک بیوی۔اس کی عاشق جماعت سب بے سہارے بے سروسامانوں کی طرح ششدر و حیران تھے۔مگر دل کو اس کی باتیں ، اس کی دعا ئیں ، اس کی تسلیاں یاد آکر اس کی اللہ تعالیٰ سے خاص محبت جو دلوں میں بٹھا گیا تھا ، جو ایمان وہ سکھا گیا تھا، تسکین بخشتی تھیں، کہ اس کا بچے وعدوں والا خدا