مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 39
حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ 39 گویا کمر ٹوٹ گئی تھی ، باہر آ کر چار پائی پر جھک کر بیٹھ گئے۔چہرہ سے ظاہر تھا کہ جیسے اس غمگین شخص کا سب کچھ لٹ گیا ہو۔میں بھاگ کر اندر چلی حضرت بڑے بھائی میرے بہت پیارے بھائی نے میری گردن میں ہاتھ ڈال کر میرا سر جھکایا کہ آپ علیہ السلام کو خدا نے بلا لیا۔اب پیشانی پر بوسہ دو، میں نے بوسہ دیا ور نہ جھجکتی رہ جاتی۔پیارے بھائی کا یہ بھی مجھ پر بڑا احسان ہوا۔پھر جس جوش سے انہوں نے آپ علیہ السلام کے بستر کے پاس پائنتی کھڑے ہو کر دعا ئیں اور عہد کئے ہیں وہ ہمیشہ نقش رہیں گے جن کو میں نے نظم کیا ہے چند الفاظ میں صرف۔میں کروں گا عمر بھر تکمیل تیرے کام کی میں تیری تبلیغ پھیلا ؤں گا بر روئے زمیں وہ درد میں ڈوبی آواز وہ عزم وشاندار لہجہ یہ معلوم ہوتا تھا کہ یکدم اللہ کی تقدیر وارد ہو جانے کے بعد غم کو ضبط کر رہے تھے اور خدمت دین اور احمدیت کی تبلیغ وغیر ہ سب ذمہ داریاں اپنے ذمہ لینے کا عہد کر لیا۔ایسے بھی الفاظ بولے تھے کہ وو کوئی ساتھ نہ دے ، میں اکیلا ہوں ، جب بھی 66 تیرے ہی کام میں زندگی گزار دوں گا۔وغیرہ۔حضرت اماں جان اسی پلنگ پر بیٹھی رہی تھیں جب تک غسل وغیرہ کی