مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 41 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 41

حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 41 ہمارے ساتھ ہے۔غم جدائی کے سوا اور ہمیں کسی قسم کا غم و فکر پاس نہیں آنے دینا چاہیے۔واقعی یہی کیفیت تھی اور خصوصاً حضرت اماں جان کی رات بھر تڑپ نے اب صا برانہ دعاؤں کی طرف رخ بدل لیا تھا۔اسباب رکھتے وقت حضرت اماں جان نے فرمایا۔( میں پاس کھڑی تھی آپ ٹرنک بند کر رہی تھیں) کہتے تھے کہ ” تین امتحان ہوں گے تمہارے۔دو تو ہو چکے (مبارک احمد کی وفات اور حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کا وصال) اب تیسرا باقی ہے۔یہ لفظ سن کر مجھے ہمیشہ و ہم رہتا کہ اس وقت چھوٹے بھائی صاحب کے کپڑے رکھ رہی تھیں خدا کرے ان کا غم نہ پہنچے۔مگر آخر وہ وقت آیا۔ہجرت قادیان سے ہونا اور حضرت اماں جان کو یہ صدمہ بہت سخت پہنچنا اور مجھے سب یاد آ گیا اور یقین ہوا کہ وہ تیسرا امتحان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فرمودہ یہی تھا۔ہم سب نہ معلوم کس وقت بٹالہ پہنچے، غرض رات اسٹیشن پر گزری تھی، پوری رات یا رات کا بڑا حصہ ، حضرت اماں جان نے مجھے سینہ سے لگا کر لٹایا ہوا تھا، صبح ہوئی اور قافلہ اپنی سب سے قیمتی متاع کو اٹھائے عازمِ قادیان ہوا، اس وقت آپ کو چار پائی پر لٹایا گیا تھا، بکس میں نہیں تھے، جہاں تک میں نے دیکھا مجھے بھی یاد ہے برف کا پانی ٹپکتا جاتا اور عاشق آپ علیہ السلام کے اس پانی کو ہاتھوں پر لے کر اپنے سر آنکھوں سے ملتے