مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی

by Other Authors

Page 38 of 114

مبارکہ کی کہانی مبارکہ کی زبانی — Page 38

حضرت نواب مبار که بیگم صاحبہ 38 دعا ئیں اور یا حی یا قیوم کی آواز سے کھلی۔ابھی آپ علیہ السلام باہر ہی تھے پھر تو ایک قیامت کا سماں لگتا تھا۔مجھے کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ میں کیا کروں۔آپ علیہ اسلام کو اندر لے آئے۔بستر پر آپ لیٹے تھے ارد گرد ڈاکٹر یعقوب بیگ صاحب وغیرہ سب احمدی ، حضرت خلیفتہ المسیح الاوّل بھی سر جھکائے کھڑے تھے۔اپنی جانب سے تدبیریں ہو رہی تھیں مگر ضعف بڑھتا جا رہا تھا۔حضرت اماں جان نے اس گھبراہٹ میں نور محمد ملا زم کو دوڑا کر میرے میاں نواب صاحب مرحوم ( میرا نکاح تو ہو چکا تھا رخصتانہ آپ علیہ السلام کے بعد ہوا) کو بھی بلوالیا تھا۔اس وقت کوئی ہوش نہ تھا۔میں سر پر چادر لے کر کبھی اندر جاتی ، دیکھتی ، کبھی ماہر آتی۔حضرت بڑے بھائی صاحب بھی کسی کو بلانے یا کسی کام کو گئے ہوئے تھے۔جلدی ہی پہنچ گئے مگر ضعف بڑھ رہا تھا۔اب آپ علیہ اسلام بول بھی نہ سکتے تھے کچھ لکھنا چاہا تھا لہا مگر کھانہ گیا تھا۔لکھا گیا حضرت بڑے بھائی صاحب خلیفہ اسیح الثانی رو رو کر دعائیں کر رہے تھے اور حضرت اماں جان بھی۔میں نے حضرت بھائی صاحب کو یہ کہتے سنا اس کرب میں کہ:۔میں دنیا سے چلا جاؤں مگر یہ مفید وجود رہ جائے۔“ آخر لوگوں کی گردنیں جھک گئیں۔سب رونے لگے حضرت خلیفہ اول کی تو